پیر، 22 اگست، 2022

وتر نماز کے متعلق حدیث مبارکہ

وتر نماز کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ، فَارْكَعْ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا صَلَّيْتَ»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

عید کے دن نفل نماز ادا کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 عید کے دن نفل نماز ادا کرنے کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  أَبِی الْوَلِيدِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺخَرَجَ يَوْمَ الفِطْرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا وَمَعَهُ بِلاَلٌ»

ترجمہ:۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے کہ نبی کریم ﷺعیدالفطر کے دن نکلے اور (عیدگاہ) میں دو رکعت نماز عید پڑھی۔ آپ ﷺنے نہ اس سے پہلے نفل نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ آپ ﷺکے ساتھ بلال ؓبھی تھے۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

عید کے دن نماز کے لئے جانے کے متعلق حدیث مبارکہ

 عید کے دن نماز کے لئے جانے  کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُحَمَّدٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺإِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ»

ترجمہ:۔ جابر ؓسے ہے کہ نبی کریم ﷺعید کے دن ایک راستہ سے جاتے پھر دوسرا راستہ بدل کر آتے۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

عید کے دن ذبح کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 عید کے دن ذبح کرنے  کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُسْلِمٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ ﷺيَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ ذَبَحَ، فَقَالَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ»

ترجمہ:۔ جندب نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺنے بقر عید کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر قربانی کی۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو تو اسے دوسرا جانور بدلہ میں قربانی کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

اتوار، 21 اگست، 2022

عیدین کے خطبوں کے متعلق حدیث مبارکہ

عیدین کے خطبوں کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺكَانَ يُصَلِّي فِي الأَضْحَى وَالفِطْرِ، ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدَ الصَّلاَةِ»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺعید الاضحی اور عیدالفطر کی نماز پہلے پڑھتے پھر نماز کے بعد خطبہ دیتے۔   ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

نا پاک بستر پر مصلی بچھا کر نماز پڑھنے کا حکم

 نا پاک بستر پر مصلی بچھا کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

اگر کوئی بستر ناپاک ہو،اور  اس کو دھویا بھی جاسکتا ہے، تو کیا  اس کے اوپر مصلیٰ (جائے نماز)  بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بستر اگر اتنا موٹا ہو کہ اس پر سجدہ کرنے سے زمین کی طرح کی سختی محسوس نہ ہوتی ہواور سجدہ کرنے پر پیشانی اس پر نہ ٹکے  تو ایسے بستر پر نماز ادا کرنا ہی جائز نہیں ہے، چاہے وہ پاک ہو  یا ناپاک ہو، البتہ اگر بستر ایسا سخت ہو کہ اس پر سجدہ کرنے سے زمین کی سی سختی محسوس ہوتی ہو اور پیشانی اس پر ٹک جائے تو ایسا بستر اگر ناپاک ہو تو اس پر پاک مصلیٰ یا جائے نماز وغیرہ بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ بچھانے کے بعد نجاست کی بو وغیرہ ظاہر نہ ہوتی ہو۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(أما إذا كان) الكور (على رأسه فقط وسجد عليه مقتصرا) أي ولم تصب الأرض جبهته ولا أنفه على القول به (لا) يصح لعدم السجود على محله وبشرط طهارة المكان وأن يجد حجم الأرض والناس عنه غافلون."

 

وفي الرد تحته:

 

"(قوله وأن يجد حجم الأرض) تفسيره أن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ من ذلك، فصح على طنفسة وحصير وحنطة وشعير وسرير وعجلة وإن "كانت على الأرض لا على ظهر حيوان كبساط مشدود بين أشجار."

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:499، ط:سعيد)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(وصلاته على مصلى مضرب نجس البطانة) بخلاف غير مضرب ومبسوط على نجس إن لم يظهر لون أو ريح."

وفي الرد تحته:

"(قوله: وصلاته على مصلى مضرب) أي مخيط، وإنما تفسد إذا كان النجس المانع في موضع قيامه أو جبهته أو في موضع يديه أو ركبتيه على ما مر. ثم هذا قول أبي يوسف وعن محمد يجوز. ووفق بعض المشايخ بحمل الأول على كون الثوب مخيطًا مضربًا، والثاني على كونه مخيطا فقط، وهو ما كان جوانبه مخيطة دون وسطه لأنه كثوبين أسفلهما نجس وأعلاهما طاهر، فلا خلاف حينئذ وصححه في المجمع ومنهم من حقق الاختلاف، فقال: عند محمد يجوز كيفما كان. وعند أبي يوسف لايجوز. وفي التجنيس: الأصح أن المضرب على الخلاف، ومفهومه أن الأصح في غير المضرب الجواز اتفاقًا، وهذا قول ثالث. وفي البدائع بعد حكايته القول الثاني: وعلى هذا لو صلى على حجر الرحى أو باب أو بساط غليظ أو مكعب أعلاه طاهر وباطنه نجس عند أبي يوسف لايجوز نظرًا إلى اتحاد المحل، فاستوى ظاهره وباطنه كالثوب الصفيق.

وعند محمد يجوز؛ لأنه صلى في موضع طاهر تحته ثوب طاهر تحته ثوب نجس، بخلاف الثوب الصفيق لأن الظاهر نفاذ الرطوبة إلى الوجه الآخر. اهـ. وظاهره ترجيح قول محمد وهو الأشبه. ورجح في الخانية في مسألة الثوب قول أبي يوسف بأنه أقرب إلى الاحتياط، وتمامه في الحلية. وذكر في المنية وشرحها: إذا كانت النجاسة على باطن اللبنة أو الآجرة وصلى على ظاهرها جاز، وكذا الخشبة إن كانت غليظة بحيث يمكن أن تنشر بصفين فيما بين الوجه الذي فيه النجاسة والوجه الآخر وإلا فلا اهـ. وذكر في الحلية أن مسألة اللبنة والآجرة على الاختلاف المار بينهما، وأنه في الخانية جزم بالجواز، وهو إشارة إلى اختياره، وهو حسن متجه، وكذا مسألة الخشبة على الاختلاف، وأن الأشبه الجواز عليها مطلقا، ثم أيده بأوجه فراجعه.

(قوله: مبسوط على نجس إلخ) قال في المنية: وإذا أصابت الأرض نجاسة ففرشها بطين أو جص فصلى عليها جاز وليس هذا كالثوب، ولو فرشها بالتراب ولم يطين، إن كان التراب قليلًا بحيث لو استشمه يجد رائحة النجاسة لاتجوز وإلا تجوز. اهـ. قال في شرحها: وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقًا يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لايجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظًا بحيث لايكون كذلك جازت. اهـ. ثم لايخفى أن المراد إذا كانت النجاسة تحت قدمه أو موضع سجوده لأنه حينئذ يكون قائمًا أو ساجدًا على النجاسة لعدم صلوح ذلك الثوب لكونه حائلًا، فليس المانع هو نفس وجود الرائحة حتى يعارض بأنه لو كان بقربه نجاسة يشم ريحها لاتفسد صلاته، فافهم".

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:626، ط:سعيد)

فقط و الله أعلم

مکمل تحریر >>

زم زم کا پانی پینے کا طریقہ

 زم زم کا پانی پینے کا طریقہ

سوال

زم زم کا پانی کھڑے ہو کر پینا چاہیے یا بیٹھ کر؟

جواب

زم زم کا پانی قبلہ رخ کھڑے ہوکرپینا مستحب ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زم زم کا پانی کھڑے ہوکر پیا ہے۔ البتہ  اگر کوئی بیٹھ کر پیے تو کوئی گناہ نہیں ۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن ابن عباس، «أن النبي صلى الله عليه وسلم شرب من ‌زمزم وهو قائم»."

(ابواب الاشربة ، باب ماجاء فی الرخصة فی الشرب قائما جلد ۴ ص: ۳۰۱ ط:شرکة مکتبة و مطبعة مصطفي البابي الحلبي ۔ مصر)

المحیط البرہانی میں ہے:

"ومن الأدب: أن يشرب فضل وضوئه أو بعضه مستقبل القبلة إن شاء قائماً، وإن شاء قاعداً، هكذا ذكره شمس الأئمة الحلواني رحمه الله. وذكر شيخ الإسلام المعروف بخواهر زادة رحمه الله أنه يشرب ذلك قائماً قال: ولا يشرب الماء قائماً، إلا في موضعين أحدهما: هذا، والثاني: عند زمزم."

(کتاب الطهارۃ ، الفصل الثانی فی بیان ما یوجب الوضوء و ما لایوجب جلد ۱ ص: ۴۹ ط: دارالکتب العلمیة)

فقط و اللہ اعلم

مکمل تحریر >>

وضو کے بعد ناخن کاٹنے کا حکم

 وضو کے بعد ناخن کاٹنے کا حکم

 سوال

وضوکے بعد ناخن کاٹنا کیسا ہے، اس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب

وضو کے بعد ناخن کاٹنا درست ہے اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

در مختار میں ہے :

"(ولا يعاد الوضوء) بل ولا بل المحل (بحلق رأسه ولحيته كما لا يعاد) الغسل للمحل ولا الوضوء (بحلق شاربه وحاجبه وقلم ظفره)."

(کتاب الطہارۃ،ارکان الوضوء،ج:۱،ص:۱۰۱،دارالفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإن أمر الماء على شعر الذقن ثم حلقه لا يجب عليه غسل الذقن وكذا لو حلق الحاجب والشارب أو مسح رأسه ثم حلق أو قلم أظافيره لا تلزمه الإعادة كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الطہارۃ،الباب الاول فی الوضوء،ج:۱،ص:۴،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

مکمل تحریر >>

قرآن کریم اور دینی کتابوں کے قریب کرسی پر بیٹھنا

 قرآن کریم اور دینی کتابوں کے قریب کرسی پر بیٹھنا

سوال

 اگر کہیں قران کریم یا دینی کتب نیچے رکھی ہوں تو کیا بندہ کرسی وغیرہ پر بیٹھ سکتا ہے؟ مطلب ایسا کرنے سے وہ گناہ گار تو نہیں ہوگا؟ اور اگر کوئی مجبوری ہو تو تب بیٹھ سکتے ہیں مثلا ٹانگوں میں درد وغیرہ؟ اس بارے میں بہت پریشانی ہوتی ہے لوگ پتہ نہیں کیا کیا باتیں بناتے ہیں۔ براہ ِکرم اس کے متعلق کوئی قاعدہ کلیہ بتادیں ۔

جواب

اگر ایک شخص پہلے سے زمین پر بیٹھ کر  (مصحفِ قرآن کریم لے کر)تلاوت کر رہا ہو ، تو دوسرے شخص کو اس کے قریب کرسی پر نہیں بیٹھنا  چاہیے، کیوں کہ بالکل ساتھ  ساتھ بیٹھنے کی صورت میں زمین پر بیٹھ کر قرآن پڑھنے والے کا  مصحف  (قرآنِ مجید کا نسخہ) کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کے پیروں کے برابر ہوجائے گا اور  اس میں بے ادبی کا پہلو نمایاں ہے، یہی حکم اس صورت میں بھی ہوگا جہاں قرآن کریم یا دیگر دینی کتابیں  نیچے رکھی ہوں اور کرسی کی بیٹھنے کی جگہ ان سے اوپر ہو، وہاں  بھی ان قرآنی مصحف اور کتابوں کے قریب کرسی پر نہیں بیٹھنا چاہیے۔البتہ دور ہو کر کرسی پر بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں،باقی کرسی پر بیٹھنے والا کتنی دور ہو تو اس کے  لیے اوپر بیٹھنا جائز ہو گا، اس کی شریعت میں کوئی تحدید نہیں ہے، حالات اور مکان کو دیکھ کر خود اس بات کا فیصلہ کر لینا  چاہیے،  مثلاً گھر میں اگر ایک کمرہ میں کوئی شخص زمین پر بیٹھ کر قرآن مجید ہاتھ میں لے کر  تلاوت کر رہا ہو تو اسی کمرے میں کسی دوسرے شخص کو  بلا عذر کرسی پر نہ بیٹھنا  چاہیے،  ہاں! اگر کوئی بڑا ہال ہو  مثلاً  مسجد کا ہال یا گھر کا بڑا صحن تو ایسی صورت میں اگر ایک کنارہ پر کوئی زمین پر بیٹھ کر تلاوت کر رہا ہو تو دوسری طرف کرسی پر بیٹھنا بے ادبی شمار نہ ہو گا۔

ہاں جس شخص کو  عذر ہو تو اس کیلئے  ایسی صورت میں  کرسی پر بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

 اگر اسلامی کتابیں کسی بیگ کے اندر ڈھکی چھپی ہوئی ہیں، یا قرآنی مصحف بند الماری میں رکھا ہے  تو اس کے قریب کرسی پر بیٹھنا جائز ہے۔

شعب الایمان للبیہقی  میں  ہے:

"ومنها أن لايحمل على المصحف كتاب آخر و لا ثوب و لا شيء إلا أن يكون مصحفان فيوضع أحدهما فوق الآخر فيجوز."

(باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان، التاسع عشر من شعب الإيمان هو باب في تعظيم القرآن،2/ 319،ط. دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

" و) كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير (أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عنالمحاذاة) فلايكره، قاله الكمال  

(قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط.

(قوله لأنه إساءة أدب) أفاد أن الكراهة تنزيهية ط، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته. قال: وهذا يقتضي التحريم فليحرر (قوله إلا أن يكون) ما ذكر من المصحف والكتب؛(قوله: مرتفع) ظاهره ولو كان الارتفاع قليلاً ط قلت: أي بما تنتفي به المحاذاة عرفاً، ويختلف ذلك في القرب والبعد، فإنه في البعد لاتنتفي بالارتفاع القليل والظاهر أنه مع البعد الكثير لا كراهة مطلقاً، تأمل".

(كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة، وما ويكره فيها، فروع اشتمال الصلاة على الصماء،1 / 655، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

مکمل تحریر >>

ڈرائی کلین سے کمبل، کوٹ وغیرہ دھلوانا

 ڈرائی کلین سے کمبل، کوٹ وغیرہ دھلوانا

سوال

ڈرائی کلین سے کمبل، کوٹ وغیرہ پاک ہوجاتے ہیں یا نہیں؟ باحوالہ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔

جواب

ڈرائی کلیننگ (Dry Cleaning)  لباس اور کپڑے کی صفائی کا ایک ایسا عمل ہے جس میں پانی کی جگہ ایک کیمیاوی  محلول استعمال ہوتا ہے۔  یہ طریقہ ایسے کپڑوں کو صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو دھلائی مشین اور آلہ خشک کاری کی سختی برداشت نہ کرسکیں۔ اس سے دھلائی جلدی اور اچھی ہوتی ہے اور کپڑے کے ریشے اور رنگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ خاص طور پر اونی کمبل وغیرہ کے لیے یہ طریقہ بہت مفید ہے؛   لہذا اگر ڈرائی کلین میں استعمال ہونے والا  کیمیا وی  محلول پاک ہو، اور  ڈرائی کلین سے کمبل، کوٹ وغیرہ دھلنے کے بعد ان پر ناپاکی کا کوئی اثر باقی نہ رہے تو  وہ  شرعًا پاک ہوگا۔

الدر المحتار میں ہے:

"(يجوز رفع نجاسة حقيقية عن محلها) و لو إناء أو مأكولا علم محلها أو لا (بماء لو مستعملا) به يفتى (وبكل مائع طاهر قالع) للنجاسة ينعصر بالعصر ".

(الدر المختار مع رد المحتار: كتاب الطهارة، باب الأنجاس (1/ 309)، ط. سعيد)

وفيه أيضًا  في (1/ 331):

 "(وَ) يَطْهُرُ مَحَلُّ (غَيْرِهَا) أَيْ: غَيْرِ مَرْئِيَّةٍ (بِغَلَبَةِ ظَنِّ غَاسِلٍ) لَوْ مُكَلَّفًا وَإِلَّا فَمُسْتَعْمَلٌ (طَهَارَةَ مَحَلِّهَا) بِلَا عَدَدٍ بِهِ يُفْتَى".

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"مايطهر به النجس عشرة: (منها) الغسل، يجوز تطهير النجاسة بالماء وبكل مائع طاهر يمكن إزالتها به كالخل وماء الورد ونحوه مما إذا عصر انعصر. كذا في الهداية."

(كتاب الطهارة، الباب السابع في النجاسة وأحكامها، الفصل الأول في تطهير الأنجاس (1/ 41)،ط. رشيديه)

النتف في الفتاوى میں ہے:

 "فكل نجاسة تصيب النفس أو الثوب فإزالتها تجوز بثلاثة أشياء: بالماء المطلق، وبالماء المقيد، وبالمائعات من الطعام والشراب مثل اللبن والخل والرب والدهن وأشباهها إلا أنها مكروهة لما فيها من الإسراف."

(كتاب الطهارة، أنواع من الطهارات (1/ 33)،ط.  دار الفرقان / مؤسسة الرسالة، 1404 - 1984)

واللہ اعلم

مکمل تحریر >>

پیشاب کے قطروں سے بچنے اور چغلی کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 پیشاب کے قطروں سے بچنے اور چغلی کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيهِ وَسَلَّم: إنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ : أمَّا أحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَستَتِرُ مِنَ البَولِ ، وَأمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمشِي بِالنَّمِيمَةِ .  ( رواہُ البُخاری ومسلم )

ترجمہ: رسول اللّٰه صلی ‌اللّٰه ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک یہ دو ( قبر والے ) البتہ عذاب دئے جارہے ہیں ، اور یہ دونوں کسی بڑی چیز کے بارے میں عذاب نہیں دئے جارہے ہیں بلکہ : ان میں سے ایک پیشاب ( کے قطروں ) سے نہیں بچتا تھا ، اور دوسرا چغلی کرتا پھرتا تھا ۔
مکمل تحریر >>

جب کفار گھیراؤ کر لیں تو اس وقت کی نماز کے بارے میں حدیث مبارکہ

 جب کفار گھیراؤ کر لیں تو اس وقت کی نماز کے بارے میں حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَلْيُصَلُّوا قِيَامًا وَرُكْبَانًا»

ترجمہ:۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺسے روایت کی ہے کہ اگر کافر بہت سارے ہوں کہ مسلمانوں کو دم نہ لینے دیں تو کھڑے کھڑے اور سوار رہ کر ﴿جس طور ممکن ہواشاروں سے ہی سہی مگر ﴾نماز پڑھ لیں۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

جمعہ کے دن کے بارے میں حدیث مبارکہ

 جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے   کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺذَكَرَ يَوْمَ الجُمُعَةِ، فَقَالَ: «فِيهِ سَاعَةٌ، لاَ يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا

ترجمہ:۔ ابوہریرہ ؓسے ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جمعہ کے ذکر میں ایک دفعہ فرمایا کہ اس دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان بندہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی چیز اللہ پاک سے مانگے تو اللہ پاک اسے وہ چیز ضرور دیتا ہے۔ ہاتھ کے اشارے سے آپ نے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے۔                 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

ہفتہ، 20 اگست، 2022

جمعہ کے خطبے کے دواران گفتگو کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

جمعہ کے خطبے کے دواران گفتگو کرنے   کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِیْ هُرَيْرَةَ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺقَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الجُمُعَةِ: أَنْصِتْ، وَالإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ "

ترجمہ:۔ ابوہریرہ ؓنے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جب امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تو اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہے کہ ”چپ رہ“ تو تو نے خود ایک لغو حرکت کی۔   ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

بارش کے لئے دعا کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

بارش کے لئے دعا کرنے  کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُسَدَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " بَيْنَمَا النَّبِيُّ ﷺيَخْطُبُ يَوْمَ الجُمُعَةِ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَلَكَ الكُرَاعُ، وَهَلَكَ الشَّاءُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا "

ترجمہ:۔ انس ؓسے ہےکہ نبی کریم ﷺجمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہو گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺمویشی اور بکریاں ہلاک ہو گئیں (بارش نہ ہونے کی وجہ سے) آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارش برسائے۔ چنانچہ آپ ﷺنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور دعا کی۔      ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

تحیۃ المسجد کے متعلق حدیث مبارکہ

تحیۃ المسجد کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ ﷺيَخْطُبُ، فَقَالَ: «أَصَلَّيْتَ؟» قَالَ: لاَ، قَالَ: «قُمْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ»

ترجمہ:۔ جابر ؓسے ہےکہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں آیا۔ نبی کریم ﷺخطبہ پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺنے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے (تحیۃ المسجد کی) نماز پڑھ لی ہے؟ آنے والے نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ اٹھو اور دو رکعت نماز (تحیۃ المسجد) پڑھ لو۔      ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

جمعے کے دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 جمعے کے دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے  کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُسَدَّدٍ،  عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺيَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا»

ترجمہ:۔ نافع سے ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہاکہ نبی کریم ﷺ(جمعہ میں) دو خطبے دیتے اور دونوں کے بیچ میں بیٹھتے تھے۔ (خطبہ جمعہ کے بیچ میں یہ بیٹھنا بھی مسنون طریقہ ہے)۔     ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

نماز کے لئے جگہ لینے کے متعلق حدیث مبارکہ

 نماز کے لئے جگہ لینے کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُحَمَّدِ ابْنِ سَلَّامٍ عَنْ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: «نَهَى النَّبِيُّ ﷺأَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَقْعَدِهِ، وَيَجْلِسَ فِيهِ»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عمر سے ہےانہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺنے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو اٹھا کر اس کی جگہ خود بیٹھ جائے۔ ﴿میں نے نافع سے پوچھا کہ کیا یہ جمعہ کے لیے ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جمعہ اور غیر جمعہ سب کے لیے یہی حکم ہے۔﴾          ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

جمعہ کی نماز کے وقت کے متعلق حدیث مبارکہ

 جمعہ کی نماز کے وقت کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  سُرَيْجِ بْنِ النُّعْمَانِ، ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺكَانَ يُصَلِّي الجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ»

ترجمہ:۔ انس بن مالک ؓسے ہے کہ رسول اللہ ﷺجمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔       ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

جمعہ سے پہلے غسل کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 جمعہ سے پہلے غسل کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  أَبِی الْيَمَانِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺيَقُولُ: «مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا کہ تم میں سے جو شخص جمعہ پڑھنے آئے تو غسل کرے۔       ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

مسواک کے متعلق حدیث مبارکہ

 مسواک کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  أَبِیْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكِ»

ترجمہ:۔ انس ؓنے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں تم سے مسواک کے بارے میں بہت کچھ کہہ چکا ہوں۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

جمعرات، 18 اگست، 2022

مسجد میں بد بو دار کوئی چیز لگا کر آنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 مسجد میں بد بو دار کوئی چیز لگا کر آنے کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُسَدَّدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺقَالَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ - يَعْنِي الثُّومَ - فَلاَ يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا»

ترجمہ:۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے کہ نبی کریم ﷺنے جنگ خیبر کے موقع پر کہا تھا کہ جو شخص اس درخت یعنی لہسن کو کھائے ہوئے ہو اسے ہماری مسجد میں نہ آنا چاہیے (کچا لہسن یا پیاز کھانا مراد ہے کہ اس سے منہ میں بو پیدا ہو جاتی ہے)۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

نماز کے بعد کہاں کو منہ کر کے امام بیٹھے اس کے متعلق حدیث مبارکہ

 نماز کے بعد کہاں کو منہ کر کے امام بیٹھے اس کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  أَبِی الْوَلِيدِ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:﴿اَیْ اِبْنُ مَسْعُوْدٍ﴾ لاَ يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلاَتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ «لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺكَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ»

ترجمہ:۔ اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓنے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ داہنی طرف ہی لوٹنا اپنے لیے ضروری قرار دے لے۔ میں نے نبی کریم ﷺکو بہت مرتبہ بائیں طرف سے لوٹتے دیکھا۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

بدھ، 17 اگست، 2022

آپﷺ کا کیچڑ میں سجدہ کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 آپﷺ کا کیچڑ میں سجدہ کرنے  کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِی سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ فَقَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺيَسْجُدُ فِي المَاءِ وَالطِّينِ، حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ فِي جَبْهَتِهِ»

ترجمہ:۔ ابو سعید خدری ؓسے ہےکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو کیچڑ میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔ مٹی کا اثر آپ ﷺکی پیشانی پر صاف ظاہر تھا۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

سجدہ سہو کے متعلق حدیث مبارکہ

 سجدہ سہو کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  قُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺالظُّهْرَ، فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ صَلاَتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن مالک بن بحینہ ؓنے، کہا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺنے نماز ظہر پڑھائی۔ ﴿آپ کو چاہیے تھا بیٹھنا لیکن ﴾ آپ ﷺ(بھول کر) کھڑے ہو گئے پھر نماز کے آخر میں بیٹھے ہی بیٹھے دو سجدے کئے۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

نماز میں سجدے کی حالت کے متعلق حدیث مبارکہ

 نماز میں سجدے کی حالت  کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُسْلِمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ ﷺقَالَ: «أُمِرْنَا أَنْ نَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلاَ نَكُفَّ ثَوْبًا وَلاَ شَعَرًا»

ترجمہ:۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سےہےانہوں نے نبی کریم ﷺسے روایت کیا کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ ہمیں سات اعضاء پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ ہم نہ بال سمیٹیں نہ کپڑے۔

 

وَ بِاِسْنَادِ  آدَمَ، عَنْ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، - وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ -، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺفَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَّبِيُّ ﷺجَبْهَتَهُ عَلَى الأَرْضِ "

ترجمہ:۔ براء بن عازب ؓنے بیان کیااور وہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نبی کریم ﷺکی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ «سمع الله لمن حمده‏» کہتے (یعنی رکوع سے سر اٹھاتے) تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک آپ ﷺاپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔                               

 

وَ بِاِسْنَادِ  مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الجَبْهَةِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ وَاليَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ، وَأَطْرَافِ القَدَمَيْنِ وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ»

ترجمہ:۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہےکہ نبی کریم ﷺنے فرمایا مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ پیشانی پر اور اپنے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ کیا اور دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔ اس طرح کہ ہم نہ کپڑے سمیٹیں نہ بال۔

 

وَ بِاِسْنَادِ  مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الحُوَيْرِثِ أَنَّهُ «رَأَى النَّبِيَّ ﷺيُصَلِّي، فَإِذَا كَانَ فِي وِتْرٍ مِنْ صَلاَتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا»

ترجمہ:۔ مالک بن حویرث لیثی ؓنے خبر دی کہ آپ نے نبی کریم ﷺکو نماز پڑھتے دیکھا۔ آپ ﷺجب طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک تھوڑی دیر بیٹھ نہ لیتے۔ ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

منگل، 16 اگست، 2022

سجدے کی حالت کے متعلق حدیث مبارکہ

 سجدے کی حالت  کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺكَانَ إِذَا صَلَّى فَرَجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے ہےکہ نبی کریم ﷺجب نماز پڑھتے سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر پھیلا دیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

رکوع اور سجدے کے متعلق حدیث مبارکہ

 رکوع اور سجدے  کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺقَالَ: " إِذَا قَالَ الإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ المَلاَئِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "

ترجمہ:۔ ابوہریرہ ؓسے ہےکہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ جب امام « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ » کہے تو تم « اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الحَمْدُ » کہو۔ کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے کہنے کے ساتھ ہو گا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

رکوع اور سجدے کے متعلق حدیث مبارکہ

رکوع اور سجدے  کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ ﷺيَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي "

ترجمہ:۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سےہےانہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺرکوع اور سجدہ میں « سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي » پڑھا کرتے تھے۔                                    ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

رفع الیدین کے متعلق حدیث مبارکہ

 رفع الیدین کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا عِنْدَ المَقَامِ، «يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ، وَإِذَا قَامَ وَإِذَا وَضَعَ»، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلاَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لاَ أُمَّ لَكَ

ترجمہ:۔ عکرمہ سےہےانہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم میں (نماز پڑھتے ہوئے) دیکھا کہ ہر جھکنے اور اٹھنے پر وہ تکبیر کہتا تھا۔ اسی طرح کھڑے ہوتے وقت اور بیٹھتے وقت بھی۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا، ارے تیری ماں مرے! کیا یہ رسول اللہ ﷺکی سی نماز نہیں ہے۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

فجر اور ظھر کی نماز کی تلاوت کے متعلق حدیث مبارکہ

 فجر اور ظھر کی نماز کی تلاوت کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  أَبِی نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ»

ترجمہ:۔ ابوقتادہ ؓسے ہےکہ نبی کریم ﷺظہر کی پہلی رکعت میں (قرآت) طویل کرتے تھے اور دوسری رکعت میں مختصر۔ صبح کی نماز میں بھی آپ ﷺاسی طرح کرتے تھے۔          ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

نمازوں میں آہستہ آواز اور اونچی آواز سے قرأت کے متعلق حدیث مبارکہ

 نمازوں میں آہستہ آواز اور اونچی آواز سے قرأت   کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُسَدَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " قَرَأَ النَّبِيُّ ﷺفِيمَا أُمِرَ وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ، {وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا} {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}

ترجمہ:۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سےہےآپ نے بتلایا کہ نبی کریم ﷺکو جن نمازوں میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے کا حکم ہوا تھا۔ آپ ﷺنے ان میں بلند آواز سے پڑھا اور جن میں آہستہ سے پڑھنے کا حکم ہوا تھا ان میں آپ ﷺنے آہستہ سے پڑھا اور تیرا رب بھولنے والا نہیں اور رسول اللہ ﷺکی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔    ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

والتین والزیتون کے متعلق حدیث مبارکہ

 والتین والزیتون  کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  أَبِی الْوَلِيدِ عَنْ عَدِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ البَرَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺكَانَ فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي العِشَاءِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ: بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ "

ترجمہ:۔ عدی بن ثابت سےہےانہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا۔ آپ ﷺسفر میں تھے کہ عشاء کی دو پہلی رکعات میں سے کسی ایک رکعت میں آپ ﷺنے «والتين والزيتون‏» پڑھی۔        ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

اذا السماء النشقت میں سجدے کے متعلق حدیث مبارکہ

 اذا السماء النشقت میں سجدے کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ العَتَمَةَ، فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، فَسَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ: «سَجَدْتُ خَلْفَ أَبِي القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلاَ أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ»

ترجمہ:۔ ابورافع سےہےانہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ ؓکے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی۔ اس میں آپ نے «إذا السماء انشقت‏» پڑھی اور سجدہ (تلاوت) کیا۔ میں نے ان سے اس کے متعلق معلوم کیا تو بتلایا کہ میں نے ابوالقاسم ﷺکے پیچھے بھی (اس آیت میں تلاوت کا) سجدہ کیا ہے اور زندگی بھر میں اس میں سجدہ کروں گا، یہاں تک کہ میں آپ ﷺسے مل جاؤں۔

          ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>