پیر، 1 اگست، 2022

 اسماء الحسنیٰ

 

ھُوَ اللہُ

الَّذِیْ لَااِلٰہَ

اِلَّاھُوَ

اَلرَّحْمٰنُ

الرَّحِیْمُ

اَلْمَلِکُ

 

القُدُّوْسُ

اَلسَّلَامُ

اَلْمُؤْمنُ

اَلْمُھَیْمِنُ

اَلْعَزِیْزُ

اَلْجَبَّارُ

 

اَلْمُتَکَبِّرُ

اَلْخَالِقُ

اَلْبَٓارِیُٔ

اَلْمُصَوِّرُ

اَلْغَفَّارُ

اَلْوَھَّابُ

 

اَلْقَھَّارُ

اَلرَّزَّاقُ

اَلْفَتَّاحُ

اَلْعَلِیْمُ

اَلْقَابِضُ

اَلْبَاسِطُ

 

اَلْخَافِضُ

اَلرَّافِعُ

اَلْمُعِزُّ

اَلْمُذِلُّ

اَلسَّمِیْعُ

اَلْبَصِیْرُ

 

اَلْحَکَمُ

اَلْعَدَلُ

اَللَّطِیْفُ

اَلْخَبِیْرُ

اَلْحَلِیْمُ

اَلْغَفُوْرُ

 

اَلْشَّکُوْرُ

اَلْعَلِیُّ

اَلْکَبِیْرُ

اَلْحَفِیْظُ

اَلْمُقِیْتُ

اَلْحَسِیْبُ

 

اَلْجَلِیْلُ

اَلْکَرِیْمُ

اَلرَّقِیْبُ

اَلْمُجِیْبُ

اَلْوَاسِعُ

اَلْحَکِیْمُ

 

اَلْوَدُوْدُ

اَلْمَجِیْدُ

اَلْبَاعِثُ

اَلشَّھِیْدُ

اَلْحَقُّ

اَلْوَکِیْلُ

 

اَلْقَوِیُّ

اَلْمَتِیْنُ

اَلْوَلِیُّ

اَلْحَمِیْدُ

اَلْمُحْصِیُ

اَلْمُبْدِیُٔ

 

اَلْمُعِیْدُ

اَلْمُحْیِیُ

اَلْمُمِیْتُ

اَلْحَیُّ

اَلْقَیُّوْمُ

اَلْوَاجِدُ

 

اَلْمَاجِدُ

اَلْوَاحِدُ

اَلْاَحَدُ

اَلصَّمَدُ

اَلْقَادِرُ

اَلْمُقْتَدِرُ

 

اَلْمُقَدِّمُ

اَلْمُؤَخِّرُ

اَلْاَوَّلُ

اَلْاٰخِرُ

اَلظَّاھِرُ

اَلْبَاطِنُ

 

اَلْوَالِیُ

اَلْمُتَعَالِ

اَلْبَرُّ

اَلتَّوَّابُ

اَلْمُنْتَقِمُ

اَلْعَفُوُّ

اَلرَّؤُفُ

مَالِکِ الْمُلْکِ

ذُوْالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ

اَلْمُقْسِطُ

اَلْجَامِعُ

 

اَلْغَنِیُّ

اَلْمُغْنِیُّ

اَلْمَانِعُ

اَلضَّآرُ

اَلنَّافِعُ

اَلنُّوْرُ

 

اَلْھَادِیُ

اَلْبَدِیْعُ

اَلْبَاقِیُ

اَلْوَارِثُ

اَلرَّشِیْدُ

اَلصَّبُّوْرُ

 

مکمل تحریر >>

یہ دعا کروڑوں نیکیوں کا سبب بنے گی

 جو شخص دس مرتبہ یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے چار کروڑ نیکیاں لکھ دیں گے

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، إِلَهًا وَاحِدًا أَحَدًا صَمَدًا، لَمْ يَتَّخِذْ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ(ترمذی۳۴۷۳)

فائدہ! جو شخص مذکورہ دعا کو دس مرتبہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے چار کروڑ نیکیاں لکھ دیں گے۔

اس دعا کے ذریعے بندہ جو دعا کرے قبول کی جاتی ہےاور اگر کچھ مانگا جائے تو عطاء کیا جاتا ہے۔

مکمل تحریر >>

بادل کی گرج چمک کی آواز آئے تو یہ دعا پڑھیں

بادل کی گرج اور کڑک کی آواز سنے تو یہ دعا پڑھے

اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ(ترمذی ۳۴۵۰)

اے اللہ ! ہمیں اپنے غضب سے قتل  نہ کر ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں (عذاب) سے پہلے معاف فرما دے۔ 

مکمل تحریر >>

مناجاتیہ اشعار

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                    مناجاتیہ اشعار

يا من يرى ما في الضمير ويسمع ... أنت المعد لكل ما يتوقع

اے وہ ذات جو دل کی پوشیدہ باتوں کو دیکھتی اور سنتی ہے (یعنی ان سے واقف ہے) آپ حفاظت کے اسباب فراہم  کرنے والے ہیں ہر اک مصیبت سے جس کا اندیشہ کیا جاتا  ہے ۔

يا من يرجى للشدائد كلها ... يا من إليه المشتكى والمفزع

اے وہ ذات جس سے  تمام مصیبتوں میں امید لگائی جاتی ہے اے وہ ذات جس کی طرف غموں کی شکایت اور ان سے پناہ لینے کے لئے رجوع کیا جاتا ہے۔

يا من خزائن ملكه في قول كن ... امنن فإن الخير عندك أجمع

اے وہ ذات جس کے رزق کے خزانے صرف ایک کلمہ ( کن میں  ) پوشیدہ ہیں آپ مجھ پر کرم و عنایت فرمایئے کہ تمام خیر و بھلائی آپ ہی کے پاس موجود ہے۔

مالي سوى فقري إليك وسيلة ... فبالافتقار إليك فقري أدفع

میرے پاس آپ کے سامنے محتاجی ظاہر کرنے کے سوا کوئی وسیلہ نہیں ہے اس لئے میں آپ کے سامنے عاجزی ظاہر کر کے اپنی محتاجی دور کرتا ہوں ۔

مالي سوى قرعي لبابك حيلة ... ولئن طردت فأي باب أقرع

میرے پاس آپ کے دروازے کو کھٹکھٹانے کے علاوہ   کوئی تدبیر نہیں ہے اگر آپ کے دربار  سے بھی مجھے دھتکار دیا گیا تو میں کون سا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔

ومن الذي أدعو وأهتف باسمه ... إن كان فضلك عن فقيرك يمنع

اور وہ کون ہے جس کا نام لیکر میں پکارونگا اور فریاد کرونگا اگر آپکا فضل  آپکے فقیر بندہ سے ہی روک لیا جائے ۔

حاشا لجودك أن تقنط عاصياً ... الفضل أجزل والمواهب أوسع

آپکی شان کریمی سے بعید ہے کہ آپ کسی گناہ گار بندہ کو مایوس کریں آپکا فضل بہت عظیم اور آپکی عطائیں بہت وسیع ہیں۔

بالذل قد وافيت بابك عالماً ... إن التذلل عند بابك ينفع

وجعلت معتمدي عليك توكلاً ... وبسطت كفي سائلا أتضرع

فاجعل لنا من كل ضيق مخرجاً ... والطف بنا يا من إليه المرجع

ثم الصلاة على النبي وآله ... خير الخلائق شافع ومشفع

مکمل تحریر >>

آندھی کے وقت یہ دعا پڑھیں

 جب آندھی دیکھیں تو یہ دعا پڑھیں

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ (ترمذی ۳۴۴۹)

اے اللہ میں تجھ سے اس آندھی سے بھلائی  اور اس میں موجود خیر کا سوال کرتا ہوں اور میں اسکے ساتھ بھیجی گئی خیر کا بھی طلبگار ہوں پھر میں اس کے شر اور  اس میں موجود شر جس شر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

مکمل تحریر >>

سجدہ تلاوت میں پڑھنے کی دعائیں

 سجود قرأت میں پڑھنے کی دعا

اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ (ترمذی۳۴۲۴)

اے اللہ! میرے لئے اس کا اجر لکھ دےاور اسکے سبب مجھ سے میرا بوجھ اتار دے اور اسے میرے لئے اپنے ہاں ذخیرہ بنا دےاور اسے مجھ سے اسی طرح قبول فرما جس طرح تو نے اپنے بندے داؤد ؑ سے قبول کیا۔

سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ(ترمذی۳۴۲۵)

میرے چہرے نے اس  ذات کے لئے  سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور ااپنی قدرت و طاقت سے اس کے کان اور آنکھیں بنائیں

مکمل تحریر >>

سوتے وقت یعنی بستر پر ٹھکانا لیتے وقت یہ دعا پڑھیں

 سوتے وقت یعنی بستر پر ٹھکانا لیتے وقت یہ دعا پڑھیں

أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الحَيَّ القَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ(ترمذی ۳۳۹۷)

میں اللہ کی مغفرت کا طلبگار ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زندہ ہے اور سنبھالنے والا ہے میں اس سے توبہ کرتا ہوں۔

فائدہ:۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص سوتے وقت یہ دعاء تین مرتبہ پڑھے گا اللہ اسکے تمام گناہ معاف فرما دے گا خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں یا درختوں کے پتوں کے برابر ہوں یا(عالج) کی ریت کے برابر ہوں یا دنیا کے دنوں کے برابر ہوں۔

مکمل تحریر >>

سوتے وقت پڑھنے کی دعا

 سوتے وقت پڑھنے کی دعا

اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ(ترمذی ۳۳۹۷)

اے اللہ میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی تیری ہی طرف متوجہ ہوا اور اپنا کام بھی تجھے سونپ دیا رغبت کی وجہ سے بھی اور تیرے ڈر سے بھی اور میں نے اپنی پیٹھ کو تیری طرف پناہ دی کیونکہ تجھ سے بھاگ کر نہ کہیں پناہ ہےاور نہ کوئی ٹھکانہ میں تیری بھیجی ہوئی کتاب پر ایمان لایا اور تیرے بھیجے ہوئے نبی پر۔

مکمل تحریر >>

سید الاستغفار

 سیدالاستغفار

اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، وَأَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَعْتَرِفُ بِذُنُوبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ(ترمذی ۳۳۹۳)

اے اللہ تو ہی میرا پروردگار ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیامیں تیرا بندہ ہوں اور جہاں تک میری استطاعت ہے تیرے عہد و پیمان پر قائم ہوں تجھ سے اپنے کاموں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور اپنے اوپر تیرے احسانوں کا اقرار کرتا ہوں اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں اور تجھ سے مغفرت کا طلبگار ہوں کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔

مکمل تحریر >>

دعا خصوصی

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وقال ربکم الدعونی استجب لکم

وقال رسول اللہﷺ اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ

یہ امر مسلم ہے کہ دارین کی کامیابی اور حصول راحت کے اسباب متکثرہ میں صرف حضوری دل کے ساتھ دعا ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس کو فلاح دنیا اور فلاح دین دونوں سے مساوی تعلق ہے ۔ دعا کی جامعیت اس کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے اس لئے قرآن مجید اور احادیث شریفہ میں دعاؤں کی ترغیب فضیلت اور تاکید بار بار وارد ہوتی ہے بعض خدا رسیدہ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ ہم نے جو کچھ پایا ہے دعاؤں کی بدولت پایا ہے اور اس کو ذہن نشین کر لیجئے کہ دعاؤں میں جو مرتبہ اور برکت ادعیہ ماثورہ کو حاصل ہے وہ محتاج بیان نہیں کیونکہ جو دعائیں حق تعالیٰ شانہ نے بذریعہ وحی جلی خواہ قرآن عظیم میں خواہ حدیث قدسی میں تعلیم فرمائی ہیں یا بالواسطہ وحی خفی اپنے مقبول پیغمبر حضور سرکار دو عالم ﷺ سے ترتیب پائے ہوئے برگزیدہ جماعت حضرات صحابہ اکرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے ثابت ہوئی ہیں وہ قبولیت میں ایسی ہیں جیسے خود حاکم اعلیٰ کی بتائی ہوئی درخواست کا مضمون حاکم اعلیٰ کے روبرو پیش کرنا جس کی منظوری میں تردّ د ہی نہیں ہوتا ہے۔ تو یہ  بلاگ  چند ایسی دعاؤں پر مشتمل ہے جو آپ کو نجات دینے والی ہیں اور مہلکات سے بچانے والی ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے کوئی عمدہ عادت اور اچھا طریقہ ایسا باقی نہیں چھوڑا جس کی دعا نہ فرمائی ہو اور کوئی برا کام اور خراب خصلت ایسی باقی نہیں رکھی جس سے پناہ نہ مانگی ہو ۔ اجمالی طور پر بھی اور تفصیلی طور پر بھی اور پھر اس کی تکمیل و تعلیم میں بھی کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مراتب بلند سے بلند فرمائیں ۔ آمین!

مکمل تحریر >>

ہفتہ، 30 جولائی، 2022

گناہوں کی معافی کے لئے بڑا ہی کار آمد وظیفہ

 اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے گناہوں کی معافی کرتا رہے تو یہ تسبیح پڑھ لیں

تسبیح! شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَوَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ لَااِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ

فضیلت !اگر یہ تسبیح رات کو پڑھ کر سوئیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر فرما دیتے ہیں جو پرندے کی شکل اختیار کر کے سمندر میں غوطہ لگاتا ہے پھر جتنے قطرے اس کے جسم سے پانی کے نکلتے ہیں پڑھنے والے کے اتنے گناہ مٹائے جاتے ہیں اُتنی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اُتنے درجات بلند کئے جاتے ہیں ۔

مکمل تحریر >>

قیامت کے دن آپ کا چہرہ بھی چوہدویں کے چاند کی طرح چمکے گا اگر یہ تسبیح کو اپنا معمول بنا لیا

 اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا چہرہ بھی قیامت کے دن چوہدویں کے چاند کی طرح چمکے تو یہ تسبیح اپنا معمول بنا لیں

تسبیح! اَسْتَغْفِرُ اللہ، تیسرا کلمہ ، درود شریف

فضیلت ! یہ تسبیح صبح و شام پڑھنے سے قیامت کے دن ہمارے چہرے چودہویں کے چاند کی طرح چمکیں گے۔(انشاء اللہ)

مکمل تحریر >>

قیامت کے دن اگر شہیدوں میں اٹھنا ہے تو یہ تسبیح پڑھیں!

 اگر آپ چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن آپ بھی شہیدوں میں اٹھائے جائیں تو اس تسبیح  کو کثرت سے پڑھیں

تسبیح !اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْ الْمَوْتِ وَفِیْ مَا بَعْدَ الْمَوْتِ .

فضیلت ! یہ دعا دن میں پچیس مرتبہ پڑھیں قیامت کے دن ہم شہیدوں میں اُٹھائے جائیں گے ۔(انشاء اللہ)

مکمل تحریر >>

وضو کی دعائیں


 وضو کی دعائیں 

کلی کرتے وقت کی دعا

اَللّٰھُمَّ اَعْنِیْ عَلیٰ تِلَاوَتِ الْقُرْآنِ وَ ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَ حُسْنِ عِبَادَتِکَ۔

ترجمہ اے اللہ ! قرآن کی تلاوت ، اپنے ذکر و شکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔

ناک میں پانی ڈالنے کی دعا

اَللّٰھُمَّ اَرِحْنِیْ رَ ائِحَۃَ الْجَنَّۃَ وَلَا تُرِحْنِیْ رَائِحَۃَ النَّارِ.

ترجمہ اے اللہ ! مجھے جنت کی خوشبو سنگھانا اور مجھے جہنم کی بدبو نہ سنگھانا۔

منہ دھونے کی دعا

اَللّٰھُمَّ بَیَّضْ وَجْھِیْ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ

ترجمہ اے اللہ! میرا چہرا روشن کرنا جس دن کچھ چہرے سیاہ ہوں گے۔

دایاں ہاتھ دھونے کی دعا

اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِیْ کِتَابِیْ بِیَمِیْنِیْ وَحَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا.

ترجمہ اے اللہ! میرا نامہ اعمال دایئں ہاتھ میں دینا اور مجھ سے آسان حساب کتاب لینا۔

بایاں ہاتھ دھونے کی دعا

اَللّٰھُمَّ لَا تُعْطِنِیْ کِتَابِیْ بِشِمَالِیْ وَلَا مِنْ وَّرَاءِ ظَہَرِیْ .

ترجمہ اے اللہ! میرا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں نہ دینا اور نہ پیٹھ کے پیچھے سے دینا۔

سر کا مسح کرنے کی دعا

اَللّٰھُمَّ اَظِلَّنِیْ تَحْتَ عَرْشِکَ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلَّ عَرْشِکَ .

ترجمہ اے اللہ! مجھے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دینا جس دن تیرے عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔

کانوں کا مسح کرنے کی دعا

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ وَ یَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَ .

ترجمہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں سے کردے جو اچھی بات سننے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں۔

 گردن کا مسح کرنے کی دعا

اَللّٰھُمَّ اَعْتِقْ رَقَبَتِیْ مِنَ النَّارِ .

ترجمہ اے اللہ! میری گردن کو جہنم کی آگ سے آزاد کردے۔

دایاں پاؤں دھونے کی دعا

اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْ قَدَمِیَّ عَلَی الصِرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ الْاَقْدَام.

ترجمہ اے اللہ! میرا قدم ثابت رکھنا جس دن پُل صراط پر اکثر قدم لغزش کریں گے۔

بایاں پاؤں دھونے کی دعا

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ ذَنْبِیْ مَغْفُوْرًا وَسَعْیَ مَشْکُوْرًا وَتِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْر

ترجمہ اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میری کوشش کو کامیاب بنا دے اور میری تجارت ہلاک نہ ہو۔

دونوں ہاتھ دھونے کی دعا

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَسْئَلُکَ الْیُمْنِ وَالْبَرَکَۃَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشُّوْمِ وَالْھَلَکَہٗ

ترجمہ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں برکت کا اور پناہ مانگتا ہوں شامت اور ہلاکت سے۔

ترجمہ اے اللہ! میرا نامہ اعمال دایئں ہاتھ میں دینا اور مجھ سے آسان حساب کتاب لینا۔


مکمل تحریر >>

 جمعہ کے دن کے معمولات اور فضائل

جمعہ کا دن سورة کہف کی تلاوت درود شریف کی کثرت اور دعاٶں کا اہتمام خاص کر عصر اور مغرب کے درمیان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے، اور اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے، پھر اللہ نے جو نماز اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے پڑھے

پھر امام کے  ( خطبہ کے لیے )  نکلنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک خاموش رہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوں گی جو اس جمعہ اور اس کے پہلے والے جمعہ کے درمیان اس سے سرزد ہوئے ہیں ۔

(سنن ابی داؤد ،۳۴۳)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے جمعے کاہے اسی دن آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا تھا اور اسی دن انھیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی میں انھیں اس سے نکالا گیا (خلافت ارضی سونپی گئی) اور قیامت بھی جمعے کےدن ہی برپاہوگی ۔

(مسلم،باب:جمعے کے دن کی فضیلت،۱۹۷۷)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھتا ہے اس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان ایک نور

روشن کر دیا جاتا ہے .

(مستدرک حاکم، حدیث 3392)

مکمل تحریر >>

جنابت کی حالت میں کھانا پینا کیسا ہے؟

 کیا جنابت کی حالت میں غسل کیے بغیر کھانا پینا جائز ہے وضاحت کیجئے؟

جنابت کی حالت میں کھانا پینا اگرچہ جائز ہے،  تاہم خلافِ اولی ہے، البتہ    کھانے پینے سے قبل باقاعدہ وضو کرنا مستحب  ہے، لہذا غسل میں اگر تاخیر مقصود ہو، تو  کھانے پینے سے قبل وضو کرلیا جائے تو بہتر ہے۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’حالتِ  جنابت میں کھانا پینا درست ہے، بہتر یہ ہے کہ وضو کرکے کھائے پیے، اور بغیر وضو کیے صرف ہاتھ منہ دھوکر کھاپی لے تو بھی جائز ہے۔

البتہ خلاف اولیٰ ہے۔‘‘

(کفایت المفتی ، ٢ / ٣١٣، ط: دارالاشاعت)

صحیح مسلم میں ہے:

" ٣٠٥۔ حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة. حدثنا ابن علية ووكيع وغندر عن شعبة، عن الحكم، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عائشة؛ قالت:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا كان جنبا، فأراد أن يأكل أو ينام، توضأ وضوءه للصلاة."

( كتاب الحيض، باب جواز نوم الجنب، واستحباب الوضوء له وغسل الفرج إذا أراد أن يأكل أو يشرب أو ينام أو يجامع، ١ / ٢٤٨، ط: دار إحياء التراث العربي ببيروت)

ترجمہ:’’  ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے اور کھانا یا سونا چاہتے تو وضو کر لیتے جیسے نماز کے لئے کرتے تھے۔‘‘

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

" إشارة إلى أنه يستحب للجنب أن يغسل ذكره ويتوضأ وضوءه للصلاة إذا أراد أن يأكل أو يشرب أو يجامع مرة أخرى أو ينام."

( كتاب الطهارة، باب مخالطة الجنب وما يباح له، الفصل الأول، ٢ / ٤٣٥، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

" (لا) قراءة (قنوت) ولا أكله وشربه بعد غسل يد وفم، ولا معاودة أهله قبل اغتساله إلا إذا احتلم لم يأت أهله. قال الحلبي: ظاهر الأحاديث إنما يفيد الندب لا نفي الجواز المفاد من كلامه."

( كتاب الطهارة، سنن الغسل، ١ / ١٧٥ - ١٧٦، ط: دار الفكر )

                                                    فقط واللہ اعلم

مکمل تحریر >>

اتوار، 10 مئی، 2020

اسلام کی بنیاد کتنی چیزوں پر ہے؟

اسلام کی بنئاد کتنی چیزوں پر ہے؟
- وَ بِاِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءُِ الزَّكَاةِ، وَالحَجُّ، وَصَوْمُِ رَمَضَانَ "

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
(المجموعۃ الصادقۃ)
مکمل تحریر >>

ہمارے اعمال اور نیت کا تعلق

ہمارے اعمال اور نیت کا کیا تعلق ہے؟
 وَ بِاِسْنَادِ الْحُمَيْدِيِّ يَقُولُ: ﴿اَيْ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالٰي عَنْهُ﴾ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِأمْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ 

ترجمہ:۔ علقمہ بن وقاص لیثی سے ہےان کا بیان ہے کہ میں نے مسجد نبوی میں منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زبان سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا۔ پس جس کی ہجرت ﴿ترک وطن﴾ دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے۔
(المجموعۃ الصادقۃ)
مکمل تحریر >>

نزول وحی کے وقت آپﷺ کی کیفیت

جب آپﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی اس وقت آپﷺ کی کیا کیفیت ہوتی تھی؟
وَ بِاِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ المَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ»﴿الحديث﴾

.ترجمہ:۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص حارث بن ہشام نامی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق ﴿سخت﴾ گذرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و دماغ پر اس (فرشتے) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس میں اس کا کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں۔﴿الحدیث﴾﴿ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت کڑاکے کی سردی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔﴾
(المجموعۃ الصادقۃ)
مکمل تحریر >>