منگل، 30 اگست، 2022

مدد کے لیے رقم دینے کے بعد اس میں زکوٰۃکی نیت کرنا

Intending to pay zakaah after giving money for help

مدد کے لیے رقم دینے کے بعد اس میں زکوٰۃکی نیت کرنا

سوال

مدد کی نیت سے رقم دی بعد میں زکوٰۃکی نیت کر لی تو کیا زکوٰۃادا ہو جائے گی؟

جواب

زکوٰۃ  کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے نیت ضروری ہے، یا تو رقم دیتے وقت دل میں زکوٰۃ دینے کی نیت کرے، یا اپنے مال سے رقم الگ کرتے وقت یہ نیت کرے کہ یہ زکوٰۃکی رقم ہے،  پھر چاہے مستحق کو دیتے وقت زکوٰۃکی نیت ہو یا نہ ہو، زکوٰۃادا ہوجائے گی۔ اور اگر مستحق کو زکوٰۃکی نیت کے بغیر مال دے دیا اور وہ مال ابھی مستحق کے پاس موجود ہے اور دینے والا زکوٰۃکی نیت کرلے تو اس صورت میں بھی زکوٰۃکی نیت معتبر ہوجاتی ہے، اور اگر زکوٰۃکی نیت کرنے سے پہلے ہی مستحق نے وہ مال خرچ کرلیا تو نیت درست نہیں ہوگی اور زکوٰۃادا نہیں ہوگی۔

الفتاوى الهندية (ج:1، ص:171، ط:دار الفكر):

’’و إذا دفع إلى الفقير بلا نية ثم نواه عن الزكاة فإن كان المال قائما في يد الفقير أجزأه، و إلا فلا، كذا في معراج الدراية و الزاهدي و البحر الرائق و العيني و شرح الهداية.‘‘

فقط واللہ اعلم

مکمل تحریر >>

سیلابی ریلے میں پکڑے جانے والے سامان کا حکم

 Order of goods caught in flood waters

سیلابی ریلے میں پکڑے جانے والے سامان کا حکم

سوال

سیلابی ریلے میں پکڑے جانے والے سامان کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

سیلابی ریلے میں پکڑا جانے والا سامان شرعًا لقطہ کے حکم میں ہے؛ لہذا ان میں سے جو اشیاء:

۱) ایسی معمولی ہوں جن کے بارے میں اس بات کا علم ہو کہ مالک ان کو تلاش نہیں کرے گا، ان چیزوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

۲) ایسی قیمتی ہوں  جن کے بارے میں یہ گمان ہو کہ مالک ان کو تلاش کرنے کی فکر کرے گا، اُن اشیاء کی تشہیر کی جائے۔ پھر مالک کے آنے کی صورت میں چیز اس کو حوالہ کی جائے  اور مالک کے نہ آنے کی صورت میں  جب اس بات کا غالب گمان ہوجائے کہ اتنی مدت گزرنے کے بعد مالک اب اس کی تلاش نہیں کرے گا، اس سامان کو صدقہ کر دے اور اگر سامان کو اٹھانےو الا خود بھی حاجت مند (مستحق زکوۃ) ہو تو خود استعمال کرنے کی گنجائش بھی ہے، البتہ مالک جب سامان اٹھانے والے تک پہنچ جاتا ہے اور کیے گئے صدقہ کو باقی رکھتا ہے تو صدقہ اپنی جگہ باقی رہے گا اور اس کو ثواب مل جائے گا۔ لیکن اگر مالک وہ سامان طلب کرتا ہے اور وہ سامان باقی ہے تو پھر مالک اس سامان  کا مستحق ہوگا اور اگر وہ سامان استعمال کر کے ختم کر دیا گیا ہے تو پھر مالک کو اختیار ہوگا کہ اٹھانے والے سے سامان کی قیمت لے یا فقیر (جس کو صدقہ کیا گیا ہے) اس سے لے۔

الفتاوى الهندية میں ہے:

"وإذا رفع اللقطة يعرفها فيقول: التقطت لقطة، أو وجدت ضالة، أو عندي شيء فمن سمعتموه يطلب دلوه علي، كذا في فتاوى قاضي خان. ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء، كذا في خزانة المفتين، ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع علىالملتقط وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين."

(کتاب اللقطہ ج نمبر ۲ ص نمبر ۲۸۹،دار الفکر)

الفتاوى الهندية میں ہے:

"ثم ما يجده الرجل نوعان: نوع يعلم أن صاحبه لا يطلبه كالنوى في مواضع متفرقة وقشور الرمان في مواضع متفرقة، وفي هذا الوجه له أن يأخذها وينتفع بها إلا أن صاحبها إذا وجدها في يده بعد ما جمعها فله أن يأخذها ولا تصير ملكا للآخذ، هكذا ذكر شيخ الإسلام خواهر زاده وشمس الأئمة السرخسي - رحمهما الله تعالى - في شرح كتاب اللقطة، وهكذا ذكر القدوري في شرحه. ونوع آخر يعلم أن صاحبه يطلبه كالذهب والفضة وسائر العروض وأشباهها وفي هذا الوجه له أن يأخذها ويحفظها ويعرفها حتى يوصلها إلى صاحبها."

(کتاب اللقطہ ج نمبر ۲ ص نمبر ۲۸۹،دار الفکر)

الفتاوى الهندية  میں ہے:

"إن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف، كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيًّا لايصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء، كذا في الكافي."

(کتاب اللقطہ ج نمبر ۲ ص نمبر ۲۸۹،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

مکمل تحریر >>

عارضی دانت ہونے کی صورت میں غسل کا حکم

 

Order for bathing in case of temporary teeth

عارضی دانت ہونے کی صورت میں غسل کا حکم

سوال

جولوگ عارضی دانت لگوا لیا کرتے ہیں، آیا غسل کے وقت ان کا اتار نا ضروری ہے؟ یا بدوں اتارنے کے ان کا غسل درست ہوگا؟

جواب

صورت مسئولہ میں عارضی دانت اگر اس طرح لگوائے ہوں کہ جب چاہیں انہیں نکالا جاسکتا ہو تو پھر فرض غسل کرتے وقت ان دانتوں کو ہٹا کر کلی کرنا لازم ہوگا، ورنہ غسل نہیں ہوگا،  لیکن اگر دانت اس طور پر لگوائے گئے ہوں کہ بلا مشقت ان کو ہٹانا ممکن نہ ہو تو پھر وہ جسم کا حصہ شمار ہوں گے اور فرض غسل  کرتے وقت انہیں نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان دانتوں کی موجودگی میں کلی کرنا کافی ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح."

کفایت المفتی میں ہے:

)كتاب الطهارة، فرض الغسل، ص: 154، ج: 1، ط: سعید(

 سوال: اگر سونے کا دانت لگوالیا ہو تو کیونکر اس کے اندرونی حصہ یعنی جڑ اور برابروں میں غسل جنابت کے وقت پانی پہنچایا جاسکتا ہے اور نہ پہنچے تو غسل ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب: اندرونی حصہ میں پانی پہنچانا اس لیے ضروری نہیں کہ اب وہ دانت بوجہ لازم اور ثابت ہونے کے اصلی دانت کے حکم میں ہوجاتا ہے۔‘‘

)کتاب الطہارت، وضو، غسل اور تیمم، ج: 2، ص: 312، ط: دار الاشاعت(

فقط واللہ اعلم

مکمل تحریر >>

جمعرات، 25 اگست، 2022

نیک اعمال کے کرنے میں جلدی کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 A blessed hadith about hastening to do good deeds

نیک اعمال کے کرنے میں جلدی کرنے کے متعلق  حدیث مبارکہ

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيهِ وَسَلَّم: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِن مَّغرِبِهَا  أَوِالدُّخَان أوِ الدَّجَّال  أوالدَّابَّةُ أوَ خَاصَّةُ أَحَدِكُمْ أوَأَمْرَ الْعَامَّةِ . ( رواہ مسلم )

ترجمہ : رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :  نیک اعمال کرنے میں چھ چیزوں کے آنے سے پہلے جلدی کرو ،  سورج کے مغرب سے نکلنے سے پہلے ، یا دھواں، یا دجال ، یا زمین کا جانور ، یا تم میں سے ایک کی موت ، یا قیامت ۔

مکمل تحریر >>

لوگوں کے ساتھ میل جول کے متعلق حدیث مبارکہ

 Hadith Mubaraka about intercourse with people

لوگوں کے ساتھ میل جول کے متعلق  حدیث مبارکہ

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُسْلِمُ إِذَا كَانَ مُخَالِطًا النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ خَيْرٌ مِنَ الْمُسْلِمِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ .( رواہ الترمذی )

 ترجمہ : رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ! جو مسلمان لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو نہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے اور نہ ہی ان کی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے.

مکمل تحریر >>

لوگوں کو لعنن ظعن کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

Blessed hadith about cursing people

لوگوں کو لعنن ظعن کرنے کے متعلق  حدیث مبارکہ

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا بِغَضَبِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا بِالنَّارِ.    ( رواہ الترمذی و ابوداؤد )

 ترجمہ : رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اللّٰه کی لعنت کے ساتھ لعنت نہ کرو، نہ اس کے غضب کی لعنت بھیجو اور نہ جہنم کی لعنت بھیجو ۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

The Messenger of Allah, may God bless him and grant him peace, said: You people do not curse with the curse of Allah, nor send the curse of His wrath, nor send the curse of Hell.

مکمل تحریر >>

بارش کے متعلق دعا Prayer for rain

 Prayer for rain

بارش کے متعلق دعا

اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالْجِبَالِ وَالْآجَامِ وَالظِّرَابِ وَالْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ .

ترجمہ : اے اللّٰہ ! ہمارے ارد گرد بارش برسا ، اور ہم پر نہ برسا ، اے اللّٰہ ! ٹیلوں ، پہاڑوں ، جنگلات ، اونچے میدانوں ، وادیوں اور درختوں کی جڑوں میں بارش برسا ۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

O Allah! Rain around us, and do not rain on us, O Allah! It rained in hills, mountains, forests, high plains, valleys and tree roots.

 

مکمل تحریر >>

منگل، 23 اگست، 2022

 A blessed hadith about shortening the prayer

قصر نماز کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ تِسْعَةَ عَشَرَ يَقْصُرُ، فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ قَصَرْنَا، وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا»

ترجمہ:۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے کہ نبی کریم ﷺ(مکہ میں فتح مکہ کے موقع پر) انیس دن ٹھہرے اور برابر قصر کرتے رہے۔ اس لیے انیس دن کے سفر میں ہم بھی قصر کرتے رہتے ہیں اور اس سے اگر زیادہ ہو جائے تو پوری نماز پڑھتے ہیں۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

A blessed hadith about prostration

سجدے کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ صَدَقَةَ بْنِ الفَضْلِ عَنْ اِبْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقْرَأُ السُّورَةَ الَّتِي فِيهَا السَّجْدَةُ فَيَسْجُدُ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ، حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهٖ»

ترجمہ:۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے کہ نبی کریم ﷺکسی ایسی سورۃ کی تلاوت کرتے جس میں سجدہ ہوتا پھر آپ ﷺسجدہ کرتے اور ہم بھی آپ ﷺکے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں کسی کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔ (معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں سجدہ نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے) «والله أعلم» ۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

سورۃ ص کے سجدے کے متعلق حدیث مبارکہ

 The blessed hadith of SAAD Surat

سورۃ ص کے سجدے کے متعلق حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ سُلَيْمَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صٓ لَيْسَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ، وَقَدْ «رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَسْجُدُ فِيهَا»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے اور میں نے نبی کریم ﷺکو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

آپﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں کیا پڑھتے تھے اس کے متعلق حدیث مبارکہ

 A blessed hadith regarding what the Prophet (peace be upon him) recited in the Fajr prayer on Friday

 آپﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں کیا پڑھتے تھے اس کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقْرَأُ فِي الجُمُعَةِ فِي صَلاَةِ الفَجْرِ الٓمٓ تَنْزِيلُ السَّجْدَةُ وَهَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ»

ترجمہ:۔ ابوہریرہ ؓسے ہے کہ نبی کریم ﷺجمعہ کے دن فجر کی نماز میں « الٓمٓ تَنْزِيلُ السَّجْدَةُ » اور «هل أتى على الإنسان‏» (سورۃ دھر) پڑھا کرتے تھے۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

پیر، 22 اگست، 2022

سجدہ تلاوت کے متعلق حدیث مبارکہ

سجدہ تلاوت کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " قَرَأَ النَّبِيُّ ﷺ النَّجْمَ بِمَكَّةَ فَسَجَدَ فِيهَا وَسَجَدَ مَنْ مَعَهُ غَيْرَ شَيْخٍ أَخَذَ كَفًّا مِّنْ حَصًى - أَوْ تُرَابٍ - فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهٖ، وَقَالَ: يَكْفِينِي هٰذَا "، فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا

ترجمہ:۔ عبداللہ بن مسعود ؓسے ہےکہ مکہ میں نبی کریم ﷺنے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا آپ ﷺکے پاس جتنے آدمی تھے (مسلمان اور کافر) ان سب نے بھی آپ ﷺکے ساتھ سجدہ کیا البتہ ایک بوڑھا شخص (امیہ بن خلف) اپنے ہاتھ میں کنکری یا مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی تک لے گیا اور کہا میرے لیے یہی کافی ہے میں نے دیکھا کہ بعد میں وہ بوڑھا حالت کفر میں ہی مارا گیا

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

جب سورج گرہن ہو تو کیا کریں؟ اس کے متعلق حدیث مبارکہ

 جب سورج گرہن ہو تو کیا کریں؟ اس کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ مَحْمُودٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ»

ترجمہ:۔ ابوبکرہ ؓسے ہےفرمایا کہ رسول اللہ ﷺکے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا تو آپ ﷺنے دو رکعت نماز پڑھی تھی۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

سورج اور چاند کا گرہن ہونا اور پرانی کہاوتوں کے متعلق حدیث مبارکہ

 سورج اور چاند کا گرہن ہونا اور پرانی کہاوتوں کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ شِهَابِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَبِیْ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَقُومُوا، فَصَلُّوا»

ترجمہ:۔ ابومسعود انصاری ؓسے ہےوہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا سورج اور چاند میں گرہن کسی شخص کی موت سے نہیں لگتا۔ یہ دونوں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اس لیے اسے دیکھتے ہی کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

قیامت کی نشانیوں کے متعلق حدیث مبارکہ

 قیامت کی نشانیوں  کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ أَبِی اليَمَانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: «لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ العِلْمُ، وَتَكْثُرَ الزَّلاَزِلُ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَتَظْهَرَ الفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الهَرْجُ - وَهُوَ القَتْلُ القَتْلُ - حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ المَالُ فَيَفِيضَ»

ترجمہ:۔ ابوہریرہ ؓنے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک علم دین نہ اٹھ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ ہو جائے گی اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزرے گا اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» سے مراد قتل ہے۔ قتل اور تمہارے درمیان دولت و مال کی اتنی کثرت ہو گی کہ وہ ابل پڑے گا۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

جب بارش ہو رہی ہو تو اس وقت کی دعا کے متعلق حدیث مبارکہ

 جب بارش ہو رہی ہو تو اس وقت کی دعا کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ كَانَ إِذَا رَأَى المَطَرَ، قَالَ: «اللهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا»

ترجمہ:۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺجب بارش ہوتی دیکھتے تو یہ دعا کرتے «صيبا نافعا» اے اللہ! نفع بخشنے والی بارش برسا۔ اس روایت کی متابعت قاسم بن یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے کی ہے اور اس کی روایت اوزاعی اور عقیل نے نافع سے کی ہے۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

نماز استسقاء کے لئے آپﷺ کا ہاتھوں کو بلند کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 نماز استسقاء کے لئے آپﷺ کا ہاتھوں کو بلند کرنے  کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍؓ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ»

ترجمہ:۔ انس بن مالک ؓسے ہےکہ نبی کریم ﷺدعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ (زیادہ) نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

بارش کے لئے آپ ﷺ کے دعا کرنے کا طریقہ اس کے متعلق حدیث مبارکہ

 بارش کے لئے آپ ﷺ کے دعا کرنے کا طریقہ اس کے متعلق  حدیث مبارکہ

- وَ بِاِسْنَادِ  أَبِی نُعَيْمٍ، عَنْ عَمِّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ،قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺيَسْتَسْقِي وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ»

ترجمہ:۔ عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید نے کہا کہ نبی کریم ﷺپانی کی دعا کرنے کے لیے تشریف لے گئے اور اپنی چادر الٹائی۔

وَ بِھٰذَا الْاِسْنَادِ قَالَ عَمُّ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ،ؓ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَوْمَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي، قَالَ: فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَاسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ يَدْعُو، ثُمَّ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالقِرَاءَةِ "

ترجمہ:۔ عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید نے فرمایاکہ میں نے نبی کریم ﷺکو جب آپ ﷺاستسقاء کے لیے باہر نکلے، دیکھا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ آپ ﷺنے اپنی پیٹھ صحابہ کی طرف کر دی اور قبلہ رخ ہو کر دعا کی۔ پھر چادر پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھائی جس کی قرآت قرآن میں آپ ﷺنے جہر کیا تھا۔

وَ بِاِسْنَادِ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍؓ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ»

ترجمہ:۔ انس بن مالک ؓسے ہےکہ نبی کریم ﷺدعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ (زیادہ) نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

آپﷺ کا رعل و ذکوان کے لئے دعائے قنوت پڑھ کر بدعا کا کرنا اس کے متعلق حدیث مبارکہ

 آپﷺ کا رعل و ذکوان کے لئے دعائے قنوت پڑھ کر بدعا کا کرنا اس کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «قَنَتَ النَّبِيُّ ﷺشَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ»

ترجمہ:۔ انس بن مالک ؓسے ہے کہ نبی کریم ﷺنے ایک مہینہ تک دعا قنوت پڑھی اور اس میں قبائل رعل و ذکوان پر بددعا کی تھی۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

اگر سواری پر کہیں جارہے ہیں اور نماز کی ادائیگی کا وقت ہے تو کیسے نماز ادا کریں اس کے متعلق حدیث مبارکہ

 اگر سواری پر کہیں جارہے ہیں اور نماز کی ادائیگی کا وقت ہے تو کیسے نماز ادا کریں اس کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺيُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ يُومِئُ إِيمَاءً صَلاَةَ اللَّيْلِ، إِلَّا الفَرَائِضَ وَيُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے کہ نبی کریم ﷺسفر میں اپنی سواری ہی پر رات کی نماز اشاروں سے پڑھ لیتے تھے خواہ سواری کا رخ کسی طرف ہو جاتا آپ ﷺاشاروں سے پڑھتے رہتے مگر فرائض اس طرح نہیں پڑھتے تھے اور وتر اپنی اونٹنی پر پڑھ لیتے۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

وتر نمازکے وقت کے متعلق حدیث مبارکہ

 وتر نمازکے وقت  کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُسَدَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ ﷺقَالَ: «اجْعَلُوا آخِرَ صَلاَتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ وتر رات کی تمام نمازوں کے بعد پڑھا کرو۔

 ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

وتر نماز کے متعلق حدیث مبارکہ

وتر نماز کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ، فَارْكَعْ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا صَلَّيْتَ»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

عید کے دن نفل نماز ادا کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 عید کے دن نفل نماز ادا کرنے کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  أَبِی الْوَلِيدِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺخَرَجَ يَوْمَ الفِطْرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلاَ بَعْدَهَا وَمَعَهُ بِلاَلٌ»

ترجمہ:۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے کہ نبی کریم ﷺعیدالفطر کے دن نکلے اور (عیدگاہ) میں دو رکعت نماز عید پڑھی۔ آپ ﷺنے نہ اس سے پہلے نفل نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد۔ آپ ﷺکے ساتھ بلال ؓبھی تھے۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

عید کے دن نماز کے لئے جانے کے متعلق حدیث مبارکہ

 عید کے دن نماز کے لئے جانے  کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُحَمَّدٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺإِذَا كَانَ يَوْمُ عِيدٍ خَالَفَ الطَّرِيقَ»

ترجمہ:۔ جابر ؓسے ہے کہ نبی کریم ﷺعید کے دن ایک راستہ سے جاتے پھر دوسرا راستہ بدل کر آتے۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

عید کے دن ذبح کرنے کے متعلق حدیث مبارکہ

 عید کے دن ذبح کرنے  کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  مُسْلِمٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ ﷺيَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ ذَبَحَ، فَقَالَ: «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ»

ترجمہ:۔ جندب نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺنے بقر عید کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر قربانی کی۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو تو اسے دوسرا جانور بدلہ میں قربانی کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔

’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

اتوار، 21 اگست، 2022

عیدین کے خطبوں کے متعلق حدیث مبارکہ

عیدین کے خطبوں کے متعلق  حدیث مبارکہ

وَ بِاِسْنَادِ  إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺكَانَ يُصَلِّي فِي الأَضْحَى وَالفِطْرِ، ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدَ الصَّلاَةِ»

ترجمہ:۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ عید الاضحی اور عیدالفطر کی نماز پہلے پڑھتے پھر نماز کے بعد خطبہ دیتے۔   ’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘

مکمل تحریر >>

نا پاک بستر پر مصلی بچھا کر نماز پڑھنے کا حکم

 نا پاک بستر پر مصلی بچھا کر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

اگر کوئی بستر ناپاک ہو،اور  اس کو دھویا بھی جاسکتا ہے، تو کیا  اس کے اوپر مصلیٰ (جائے نماز)  بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بستر اگر اتنا موٹا ہو کہ اس پر سجدہ کرنے سے زمین کی طرح کی سختی محسوس نہ ہوتی ہواور سجدہ کرنے پر پیشانی اس پر نہ ٹکے  تو ایسے بستر پر نماز ادا کرنا ہی جائز نہیں ہے، چاہے وہ پاک ہو  یا ناپاک ہو، البتہ اگر بستر ایسا سخت ہو کہ اس پر سجدہ کرنے سے زمین کی سی سختی محسوس ہوتی ہو اور پیشانی اس پر ٹک جائے تو ایسا بستر اگر ناپاک ہو تو اس پر پاک مصلیٰ یا جائے نماز وغیرہ بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ بچھانے کے بعد نجاست کی بو وغیرہ ظاہر نہ ہوتی ہو۔

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(أما إذا كان) الكور (على رأسه فقط وسجد عليه مقتصرا) أي ولم تصب الأرض جبهته ولا أنفه على القول به (لا) يصح لعدم السجود على محله وبشرط طهارة المكان وأن يجد حجم الأرض والناس عنه غافلون."

 

وفي الرد تحته:

 

"(قوله وأن يجد حجم الأرض) تفسيره أن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ من ذلك، فصح على طنفسة وحصير وحنطة وشعير وسرير وعجلة وإن "كانت على الأرض لا على ظهر حيوان كبساط مشدود بين أشجار."

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:499، ط:سعيد)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

"(وصلاته على مصلى مضرب نجس البطانة) بخلاف غير مضرب ومبسوط على نجس إن لم يظهر لون أو ريح."

وفي الرد تحته:

"(قوله: وصلاته على مصلى مضرب) أي مخيط، وإنما تفسد إذا كان النجس المانع في موضع قيامه أو جبهته أو في موضع يديه أو ركبتيه على ما مر. ثم هذا قول أبي يوسف وعن محمد يجوز. ووفق بعض المشايخ بحمل الأول على كون الثوب مخيطًا مضربًا، والثاني على كونه مخيطا فقط، وهو ما كان جوانبه مخيطة دون وسطه لأنه كثوبين أسفلهما نجس وأعلاهما طاهر، فلا خلاف حينئذ وصححه في المجمع ومنهم من حقق الاختلاف، فقال: عند محمد يجوز كيفما كان. وعند أبي يوسف لايجوز. وفي التجنيس: الأصح أن المضرب على الخلاف، ومفهومه أن الأصح في غير المضرب الجواز اتفاقًا، وهذا قول ثالث. وفي البدائع بعد حكايته القول الثاني: وعلى هذا لو صلى على حجر الرحى أو باب أو بساط غليظ أو مكعب أعلاه طاهر وباطنه نجس عند أبي يوسف لايجوز نظرًا إلى اتحاد المحل، فاستوى ظاهره وباطنه كالثوب الصفيق.

وعند محمد يجوز؛ لأنه صلى في موضع طاهر تحته ثوب طاهر تحته ثوب نجس، بخلاف الثوب الصفيق لأن الظاهر نفاذ الرطوبة إلى الوجه الآخر. اهـ. وظاهره ترجيح قول محمد وهو الأشبه. ورجح في الخانية في مسألة الثوب قول أبي يوسف بأنه أقرب إلى الاحتياط، وتمامه في الحلية. وذكر في المنية وشرحها: إذا كانت النجاسة على باطن اللبنة أو الآجرة وصلى على ظاهرها جاز، وكذا الخشبة إن كانت غليظة بحيث يمكن أن تنشر بصفين فيما بين الوجه الذي فيه النجاسة والوجه الآخر وإلا فلا اهـ. وذكر في الحلية أن مسألة اللبنة والآجرة على الاختلاف المار بينهما، وأنه في الخانية جزم بالجواز، وهو إشارة إلى اختياره، وهو حسن متجه، وكذا مسألة الخشبة على الاختلاف، وأن الأشبه الجواز عليها مطلقا، ثم أيده بأوجه فراجعه.

(قوله: مبسوط على نجس إلخ) قال في المنية: وإذا أصابت الأرض نجاسة ففرشها بطين أو جص فصلى عليها جاز وليس هذا كالثوب، ولو فرشها بالتراب ولم يطين، إن كان التراب قليلًا بحيث لو استشمه يجد رائحة النجاسة لاتجوز وإلا تجوز. اهـ. قال في شرحها: وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقًا يشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحة لايجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظًا بحيث لايكون كذلك جازت. اهـ. ثم لايخفى أن المراد إذا كانت النجاسة تحت قدمه أو موضع سجوده لأنه حينئذ يكون قائمًا أو ساجدًا على النجاسة لعدم صلوح ذلك الثوب لكونه حائلًا، فليس المانع هو نفس وجود الرائحة حتى يعارض بأنه لو كان بقربه نجاسة يشم ريحها لاتفسد صلاته، فافهم".

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:626، ط:سعيد)

فقط و الله أعلم

مکمل تحریر >>

زم زم کا پانی پینے کا طریقہ

 زم زم کا پانی پینے کا طریقہ

سوال

زم زم کا پانی کھڑے ہو کر پینا چاہیے یا بیٹھ کر؟

جواب

زم زم کا پانی قبلہ رخ کھڑے ہوکرپینا مستحب ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زم زم کا پانی کھڑے ہوکر پیا ہے۔ البتہ  اگر کوئی بیٹھ کر پیے تو کوئی گناہ نہیں ۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن ابن عباس، «أن النبي صلى الله عليه وسلم شرب من ‌زمزم وهو قائم»."

(ابواب الاشربة ، باب ماجاء فی الرخصة فی الشرب قائما جلد ۴ ص: ۳۰۱ ط:شرکة مکتبة و مطبعة مصطفي البابي الحلبي ۔ مصر)

المحیط البرہانی میں ہے:

"ومن الأدب: أن يشرب فضل وضوئه أو بعضه مستقبل القبلة إن شاء قائماً، وإن شاء قاعداً، هكذا ذكره شمس الأئمة الحلواني رحمه الله. وذكر شيخ الإسلام المعروف بخواهر زادة رحمه الله أنه يشرب ذلك قائماً قال: ولا يشرب الماء قائماً، إلا في موضعين أحدهما: هذا، والثاني: عند زمزم."

(کتاب الطهارۃ ، الفصل الثانی فی بیان ما یوجب الوضوء و ما لایوجب جلد ۱ ص: ۴۹ ط: دارالکتب العلمیة)

فقط و اللہ اعلم

مکمل تحریر >>

وضو کے بعد ناخن کاٹنے کا حکم

 وضو کے بعد ناخن کاٹنے کا حکم

 سوال

وضوکے بعد ناخن کاٹنا کیسا ہے، اس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب

وضو کے بعد ناخن کاٹنا درست ہے اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

در مختار میں ہے :

"(ولا يعاد الوضوء) بل ولا بل المحل (بحلق رأسه ولحيته كما لا يعاد) الغسل للمحل ولا الوضوء (بحلق شاربه وحاجبه وقلم ظفره)."

(کتاب الطہارۃ،ارکان الوضوء،ج:۱،ص:۱۰۱،دارالفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وإن أمر الماء على شعر الذقن ثم حلقه لا يجب عليه غسل الذقن وكذا لو حلق الحاجب والشارب أو مسح رأسه ثم حلق أو قلم أظافيره لا تلزمه الإعادة كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الطہارۃ،الباب الاول فی الوضوء،ج:۱،ص:۴،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

مکمل تحریر >>

قرآن کریم اور دینی کتابوں کے قریب کرسی پر بیٹھنا

 قرآن کریم اور دینی کتابوں کے قریب کرسی پر بیٹھنا

سوال

 اگر کہیں قران کریم یا دینی کتب نیچے رکھی ہوں تو کیا بندہ کرسی وغیرہ پر بیٹھ سکتا ہے؟ مطلب ایسا کرنے سے وہ گناہ گار تو نہیں ہوگا؟ اور اگر کوئی مجبوری ہو تو تب بیٹھ سکتے ہیں مثلا ٹانگوں میں درد وغیرہ؟ اس بارے میں بہت پریشانی ہوتی ہے لوگ پتہ نہیں کیا کیا باتیں بناتے ہیں۔ براہ ِکرم اس کے متعلق کوئی قاعدہ کلیہ بتادیں ۔

جواب

اگر ایک شخص پہلے سے زمین پر بیٹھ کر  (مصحفِ قرآن کریم لے کر)تلاوت کر رہا ہو ، تو دوسرے شخص کو اس کے قریب کرسی پر نہیں بیٹھنا  چاہیے، کیوں کہ بالکل ساتھ  ساتھ بیٹھنے کی صورت میں زمین پر بیٹھ کر قرآن پڑھنے والے کا  مصحف  (قرآنِ مجید کا نسخہ) کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کے پیروں کے برابر ہوجائے گا اور  اس میں بے ادبی کا پہلو نمایاں ہے، یہی حکم اس صورت میں بھی ہوگا جہاں قرآن کریم یا دیگر دینی کتابیں  نیچے رکھی ہوں اور کرسی کی بیٹھنے کی جگہ ان سے اوپر ہو، وہاں  بھی ان قرآنی مصحف اور کتابوں کے قریب کرسی پر نہیں بیٹھنا چاہیے۔البتہ دور ہو کر کرسی پر بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں،باقی کرسی پر بیٹھنے والا کتنی دور ہو تو اس کے  لیے اوپر بیٹھنا جائز ہو گا، اس کی شریعت میں کوئی تحدید نہیں ہے، حالات اور مکان کو دیکھ کر خود اس بات کا فیصلہ کر لینا  چاہیے،  مثلاً گھر میں اگر ایک کمرہ میں کوئی شخص زمین پر بیٹھ کر قرآن مجید ہاتھ میں لے کر  تلاوت کر رہا ہو تو اسی کمرے میں کسی دوسرے شخص کو  بلا عذر کرسی پر نہ بیٹھنا  چاہیے،  ہاں! اگر کوئی بڑا ہال ہو  مثلاً  مسجد کا ہال یا گھر کا بڑا صحن تو ایسی صورت میں اگر ایک کنارہ پر کوئی زمین پر بیٹھ کر تلاوت کر رہا ہو تو دوسری طرف کرسی پر بیٹھنا بے ادبی شمار نہ ہو گا۔

ہاں جس شخص کو  عذر ہو تو اس کیلئے  ایسی صورت میں  کرسی پر بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

 اگر اسلامی کتابیں کسی بیگ کے اندر ڈھکی چھپی ہوئی ہیں، یا قرآنی مصحف بند الماری میں رکھا ہے  تو اس کے قریب کرسی پر بیٹھنا جائز ہے۔

شعب الایمان للبیہقی  میں  ہے:

"ومنها أن لايحمل على المصحف كتاب آخر و لا ثوب و لا شيء إلا أن يكون مصحفان فيوضع أحدهما فوق الآخر فيجوز."

(باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان، التاسع عشر من شعب الإيمان هو باب في تعظيم القرآن،2/ 319،ط. دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

" و) كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير (أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عنالمحاذاة) فلايكره، قاله الكمال  

(قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط.

(قوله لأنه إساءة أدب) أفاد أن الكراهة تنزيهية ط، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته. قال: وهذا يقتضي التحريم فليحرر (قوله إلا أن يكون) ما ذكر من المصحف والكتب؛(قوله: مرتفع) ظاهره ولو كان الارتفاع قليلاً ط قلت: أي بما تنتفي به المحاذاة عرفاً، ويختلف ذلك في القرب والبعد، فإنه في البعد لاتنتفي بالارتفاع القليل والظاهر أنه مع البعد الكثير لا كراهة مطلقاً، تأمل".

(كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة، وما ويكره فيها، فروع اشتمال الصلاة على الصماء،1 / 655، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

مکمل تحریر >>