آخری امت ہونے اور کھڑے پانی کے بارے میں احکام
وَ
بِاِسْنَادِ أَبِیْ اليَمَانِ، عَنْ أَبِیْ هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ
اللَّهِ ﷺيَقُولُ: «نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: «لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ
فِي المَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ»
ترجمہ:۔ ابوہریرہ ؓسے ہے،
انہوں نے رسول اللہ ﷺسے سنا، آپ ﷺفرماتے تھے کہ ہم (لوگ) دنیا میں
پچھلے زمانے میں آئے ہیں (مگر آخرت میں) سب سے
آگے ہیں۔اور اسی سند سے (یہ بھی) فرمایا
کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے۔ پھر اسی میں
غسل کرنے لگے؟
’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘