- وَ بِاِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ المُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺفَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الوَحْيُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ المَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ»﴿الحديث﴾.
ترجمہ:۔ ام
المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص حارث بن
ہشام نامی نے نبی کریم ﷺسے سوال کیا تھا کہ یا رسول
اللہ! آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ ﷺنے
فرمایا کہ وحی نازل ہوتے وقت کبھی مجھ کو گھنٹی کی سی آواز محسوس ہوتی ہے اور وحی
کی یہ کیفیت مجھ پر بہت شاق ﴿سخت﴾ گذرتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میرے دل و
دماغ پر اس (فرشتے) کے ذریعہ نازل شدہ وحی محفوظ ہو جاتی ہے اور کسی وقت ایسا ہوتا
ہے کہ فرشتہ بشکل انسان میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس میں اس کا
کہا ہوا یاد رکھ لیتا ہوں۔﴿الحدیث﴾﴿ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے سخت
کڑاکے کی سردی میں نبی کریم ﷺکو
دیکھا ہے کہ آپ ﷺپر وحی
نازل ہوئی اور جب اس کا سلسلہ موقوف ہوا تو آپ ﷺکی
پیشانی پسینے سے شرابور تھی۔﴾