وَ بِاِسْنَادِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺإِذَا أَمَرَهُمْ، أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ، قَالُوا: إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: «إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا».
ترجمہ:۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہےوہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺلوگوں کو کسی کام کا حکم دیتے تو وہ ایسا ہی کام ہوتا جس کے کرنے کی لوگوں میں طاقت ہوتی﴿اس پر﴾ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ تو آپ جیسے نہیں ہیں ﴿آپ تو معصوم ہیں﴾ اور آپ کی اللہ پاک نے اگلی پچھلی سب لغزشیں معاف فرما دی ہیں۔ ﴿اس لیے ہمیں اپنے سے کچھ زیادہ عبادت کرنے کا حکم فرمائیے﴾﴿یہ سن کر﴾آپ ﷺناراض ہوئے حتیٰ کہ خفگی آپ ﷺکے چہرہ مبارک سے ظاہر ہونے لگی۔ پھر فرمایا کہ بیشک میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اسے جانتا ہوں۔ ﴿پس تم مجھ سے بڑھ کر عبادت نہیں کر سکتے﴾۔
مجموعۃ
الصادقۃ