مردوں کی لیے مسنون طریقہ نماز
قیام نماز شروع کرنے سے پہلے
بالکل سیدھے کھڑے ہوں اور نظر سجدے کی جگہ پر رہے گردن جھکا کر ٹھوڑی سینے سے
لگانا مکروہ ہے اور بلاوجہ سینے کو جھکا کر کھڑا ہونا بھی درست نہیں، پاؤں کی
انگلیوں کا رخ بھی قبلہ کی جانب رہے اور دونوں پاؤں سیدھے قبلہ رخ رہیں پاؤں کو
دائیں بائیں ترچھا رکھنا خلاف سنت ہے، دونوں پاؤں کے درمیان کم از کم چار انگل کا
فاصلہ ہونا چاہئے۔
جماعت کی صورت میں اس بات کا اطمینان کرلیں کہ دائیں بائیں کھڑے ہونے والوں
کے بازوؤں کے ساتھ آپ کے بازو ملے رہیں اور بیچ میں کوئی خلانہ ہو، شلوار وغیرہ
کو ٹخنے سے نیچے لٹکانا ہر حالت میں نا جائز ہے ظاہر ہے نمازمیں اس کی قباحت اور
بھی بڑھ جاتی ہے لہذا شلوار وغیرہ ٹخنے سے اونچے ہوں۔
ہاتھ کی آستینیں نہ چڑھائیں
بلکہ پوری طرح ڈھکی رہیں، ایسے کپڑے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے جنہیں پہن کر
انسان لوگوں کے سامنے نہ جاتا ہوں نیت دل میں ہی کرلینا کافی ہے زبان سے نیت کے
الفاظ کہنا ضروری نہیں۔
تکبیر تحریمہ تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ
کانوں تک اس طرح اٹھائیں کہ ہتھیلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو اور انگوٹھوں کے سرے کان
کی لو سے یا تو بالکل ملجائیں یا اس کے برا بر آجائیں اور باقی انگلیاں اوپر کی
طرف سیدھی ہوں۔
بعض لوگ ہتھیلیوں کارخ
قبلہ کی طرف کرنے کے بجائے کانوں کی طرف کرلیتے ہیں بعض لوگ کانوں کو ہاتھوں سے
ڈھانک لیتے ہیں بعض لوگ ہاتھ پوری طرح کانوں تک اٹھائے بغیر ہلکا سا اشارہ کر لیتے
ہیںاور بعض لوگ کا نوں کی لو کو ہاتھوں سے پکڑ لیتے ہیں یہ سب طریقے غلط اور خلاف
سنت ہیں ان سے بچنا نہایت ضروری ہے۔
ہاتھ باندھنا دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور
چھوٹی انگلی سے بائیں کلائی (گٹے) کے گرد حلقہ بنا کر اسے پکڑ لیں اورباقی تین
انگلیوں کو بائیںہاتھ کی پشت پر اس طرح پھیلا دیں کہ تینوں انگلیوں کا رخ کہنی کی
طرف رہے بائیں ہتھیلی اور انگلیاں دائیں ہاتھ کے نیچے چھپی رہیں دونوں ہاتھوں کو
ناف سے ذرانیچے رکھ کر مذکورہ بالا طریقے سے باندھ لیں۔
بغیر کسی ضرورت کے جسم کے
کسی حصے کو حرکت نہ دیں جتنے سکون کے ساتھ کھڑے ہوں اتنا ہی بہتر ہے اگر کھجلی
وغیرہ کی ضرورت ہو تو صرف ایک ہاتھ استعمال کریں اور وہ بھی صرف سخت ضرورت کے وقت
اور کم سے کم۔
رکوع رکوع میں اپنے او پر کے
دھڑ کو اس حد تک جھکائیں کہ گردن، پشت اور سرین تقریبا ایک سطح پر آجائیں نہ اس
سے زیادہ جھکیں نہ اس سے کم، رکوع میں پاؤں سیدھے رکھیں ان میں خم نہ ہو دونوں
ہاتھ گھٹنوں پر رکھیں اور گھٹنوں کو اس طرح پکڑیں کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کھلی
ہوئی ہوں رکوع کی حالت میں کلائیاں اور بازو سیدھے تنے ہوئے رہنے چاہئیں ان میں خم
نہیں آنا چاہئے۔
رکوع سے کھڑے ہوتے وقت اتنے سیدھے ہوجائیں کہ جسم میں کوئی خم باقی نہ رہے
سجدے میں جاتے وقت سب سے پہلے گھٹنوں کو خم دے کر انہیں زمین کی طرف اس طرح لے
جائیں کہ سینہ آگے کو نہ جھکے جب گھٹنے زمین پر ٹک جائیں اس کے بعد سینے کو جھکائیں۔
سجدہ سجدے میں سر کو دونوں
ہاتھوں کے درمیان اس طرح رکھیں کہ دونوں انگوٹھوں کے سرے کانوں کی لو کے سامنے ہو
جائیں تکبیر تحریمہ کی طرح سجدے میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی ہوں اور ان
کے درمیان فاصلہ نہ ہو انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو اور کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی
ہونی چاہئے دونوں بازو پہلوؤں سے الگ رہنے چاہئیں رانیں پیٹ سے ملی ہوئی نہ
ہوںاور پورے سجدے کے دوران ناک زمین پر ٹکی رہے دونوں پاؤں کھڑے رکھے جائیں اور
ان کی تمام انگلیاں مڑ کر قبلہ رخ ہو جائیں جو لوگ اپنے پاؤں کی بناوٹ کی وجہ سے
تمام انگلیاں موڑنے پر قادر نہ ہوں وہ جتنی موڑ سکیں اتنی موڑ نے کا اہتمام کریں۔
اس بات کا خیال رہے کہ
سجدے کے دوران پاؤں زمین سے اٹھنے نہ پائیں بعض لوگ اس طرح سجدہ کرتے ہیں کہ
پاؤں کی کوئی انگلی ایک لمحہ کیلئے زمین پر نہیںٹکتی اس طرح سجدہ ادا نہیں ہوتا
اور نتیجۃً نماز بھی نہیں ہوتی اس سے اہتمام کے ساتھ پرہیز کریں۔
ایک سجدے سے اٹھ کر
اطمینان کے ساتھ دو زانوں پر سیدھے بیٹھ جائیں پھر دوسرا سجدہ کریں دو سرے سجدے سے
اٹھتے وقت پہلے پیشانی زمین سے اٹھائیں پھر ناک پھر ہاتھ پھر گھٹنے، اٹھتے وقت
زمین کا سہارا مت لیں ہاں اگر جسم بھاری ہو یا بیماری یا بڑھاپے کے وجہ سے مشکل ہو
تو سہارا لینا بھی جائز ہے۔
قعدہ بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھیں اور دایاں پاؤں کھڑا کر لیں
اور دونوں پاؤں کی انگلیاں موڑ کر قبلہ رخ کریں، بیٹھنے کی حالت میں دونوں ہاتھ
گھٹنوں پر رکھے ہونے چاہیئے اور انگلیاں گھٹنوں کی طرف لٹکی ہوئی نہ ہوں بلکہ
انگلیوں کے آخری سرے گھٹنے کے ابتدائی کنارے تک پہنچ جائیں تاکہ انگلیوں کا رخ
قبلہ کی طرف ہوجائے یادرہے دونوں سجدوں کے درمیان بھی اسی طریقہ سے بیٹھنا چاہئے۔
التحیات پڑھتے وقت جب
’’اشہد ان لا‘‘ پر پہنچیں تو شہادت کی انگلی اٹھا کر اشارہ کریں اور ’’الا اﷲ‘‘ پر
گرادیں۔
اشارے کا طریقہ یہ ہے کہ
بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنائیں چھنگلی اور اس کے برابر والی
انگلی کو بند کر لیں اور شہادت کی انگلی کو اس طرح اٹھائیں کہ انگلی کا رخ قبلہ کہ
طرف ہو بالکل سیدھی آسمان کی طرف نہ ہونی چاہئے الا اﷲ کہتے وقت شہادت کی انگلی
نیچے کر لیں اور باقی انگلیوں کو اسی حالت پر بر قرار رکھیں۔
سلام سلام پھیرتے وقت گردن کو
اتنا موڑیںکہ پیچھے بیٹھے ہوئے آدمی کو آپ کے رخسار نظر آجائیں اور اپنی نظروں
کو کندھے کی طرف رکھیں۔
دعاء: دعاء کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ اتنے اٹھائے جائیں کہ وہ سینے کے سامنے
آجائیں دونوں ہاتھوں کے درمیان معمولی سا فاصلہ ہو نہ ہاتھوں کو بالکل ملائیں اور
نہ ہی زیادہ فاصلہ رکھیں دعا کرتے وقت دونوں ہاتھوں کے اندرونی حصے کو چہرے کے
سامنے رکھیں۔