خواتین کی نماز کی ادائیگی کا طریقہ
قیام نماز شروع کرنے سے پہلے
بالکل سیدھی کھڑی ہوں اور نظر سجدے کی جگہ پر رہے گردن کو جھکا کر ٹھوڑی سینے سے
لگا لینا مکروہ ہے اور بلا وجہ سینے کو جھکا کر کھڑا ہونا بھی درست نہیں لہذا اس
طرح سیدھی کھڑی ہوں کہ نظر سجدے کی جگہ پر رہے پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی
جانب رہے اور دونوں پاؤں سیدھے قبلہ رخ رہیں پاؤں کو دائیں بائیں ترچھا رکھنا
خلاف سنت ہے۔
خواتین کسی موٹی بڑی چادر
سے اپنے سارے جسم کو اچھی طرح ڈھانپ لیں جس سے سر کے بال، سینہ، بازوں، باہیں،
پنڈلیاں، مونڈھے اور گردن وغیرہ سب ڈھکے رہیں۔
تکبیر تحریمہ دل میں نیت کرلیں کہ فلاں
نماز پڑھ رہی ہوں زبان سے نیت کے الفاظ کہنا ضروری نہیں دونوں ہاتھ دوپٹے سے باہر
نکالے بغیر کندھوں تک اس طرح اٹھائیں کہ ہتھیلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو اور
انگلیاں اوپر کی طرف سیدھی ہوں۔ خواتین کانوں تک ہاتھ نہ اٹھائیں۔ اور دونوں ہاتھ
سینے پر بغیر حلقہ بنائے اس طرح رکھیں کہ داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت
پر آجائے بغیر ضرورت کے جسم کے کسی حصہ کو حرکت نہ دیں جتنے سکون کے ساتھ کھڑی
ہوں اتناہی بہتر ہے۔ اگر کھجلی وغیرہ کی ضرورت ہو تو صرف ایک ہاتھ استعمال کریں
اور وہ بھی سخت ضرورت کے وقت اور کم سے کم۔ جسم کا سارا زور ایک پاؤں پر نہ دیں۔
رکوع خواتین رکوع میں معمولی سا جھکیں کہ دونوں ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں مردوں
کی طرح خوب اچھی طرح نہ جھکیں (شامی) خواتین مردوں کی طرح انگلیاں کشادہ کر کے
گھٹنوں کونہ پکڑیں بلکہ ملا کر رکھیں اور گھٹنوں کو ذرا آگے کو جھکا لیں اور اپنی
کہنیاں بھی پہلو سے خوب ملا کر رکھیں (درمختار) رکوع کی حالت میں نظریں پاؤں کی
طرف ہونی چاہئیں رکوع سے کھڑے ہوتے وقت اس قدر سیدھی ہوجائیں کہ جسم میں کوئی خم
باقی نہ رہے اس حالت میں بھی نظریں سجدے کی جگہ پر رہنی چاہئیں۔
سجدہ خواتین سینہ آگے جھکا کر
سجدے میں جائیں پہلے اپنے گھنٹے زمین پر رکھیں پھر ہاتھ پھر ناک پھر پیشانی خوب
سمٹ کر اور دبک کر اس طرح سجدہ کریں کہ پیٹ رانوں سے بالکل مل جائے بازو بھی
پہلوؤں سے ملے ہوئے ہوں اور پاؤں کو کھڑا کرنے کے بجائے دائیں طرف نکال کر بچھادیں
اورجہاں تک ہوسکے انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف رکھیں اور کہنیوں سمیت پوری باہیں بھی
زمین پر رکھیں دوسرے سجدے سے اٹھتے وقت پہلے پیشانی زمین سے اٹھائیں پھر ناک پھر
ہاتھ پھر گھٹنے۔
اٹھتے وقت زمین کا سہارا
نہ لینا بہتر ہے لیکن اگر جسم بھاری ہو یا بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے مشکل ہو تو
سہارا لینا بھی جائز ہے۔
قعدہ قعدہ میں بائیں کولہے پر
بیٹھیں اور دونوں پاؤں دائیں طرف کو نکال دیں اور دائیں پنڈلی کو بائیں پنڈلی پر
رکھیں اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھ لیں اور انگلیاں خوب ملا کر رکھیں اور بیٹھتے
وقت اپنی نظریں گود کی طرف رکھیں یاد رہے دونوں سجدوں کے درمیان بھی اسی طرح
بیٹھیں۔
التحیات پڑھتے وقت جب
’’اشہد ان لا‘‘ پر پہنچیں تو شہادت کی انگلی اٹھاکر اشارہ کریں اور’’ الا اﷲ‘‘ پر
گرادیں اشارے کا طریقہ یہ ہے کہ بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر حلقہ بنائیں
چھنگلی اور اس کے برابر والی انگلی کو بند کرلیں اور شہادت کی انگلی اس طرح
اٹھائیں کہ انگلی کا رخ قبلہ کی طرف ہو بالکل سیدھی آسمان کی طرف نہ ہوالا اﷲ کہتے
وقت شہادت کی انگلی تو نیچے کر لیں لیکن باقی انگلیوں کو آخر تک اسی حالت پر
برقرار رکھیں۔
سلام سلام پھیرتے وقت گردن کو اتنا موڑیں کہ پیچھے بیٹھنے والی عورت کو آپ کے
رخسار نظر آجائیں سلام پھیرتے وقت نظریں کندھے کی طرف ہونی چاہئیں۔
دعا دعا کا طریقہ یہ ہے کہ
دونوں ہاتھ اتنے اٹھائے جائیں کہ وہ سینے کے سامنے آجائیں دونوں ہاتھوں کے درمیان
معمولی سا فاصلہ ہو دعاکرتے وقت ہاتھوں کے اندرونی حصے کوچہرے کے سامنے رکھیں۔