منگل، 2 اگست، 2022

فتنوں اور خزانوں کا کھولا جانا اور عورتوں کے لباس کے بارے میں حدیث مبارکہ


وَ بِاِسْنَادِ صَدَقَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ ﷺذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الفِتَنِ، وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الخَزَائِنِ، أَيْقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الحُجَرِ، فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ».

ترجمہ:۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ہےوہ روایت کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں (جو) دنیا میں (باریک) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔’’ المجوعۃ الصادقۃ‘‘